Bharat Express DD Free Dish

CMD Upendrra Rai

ہریدوار کے دیویہ پریم سیوا مشن کے فلاحی منصوبوں کے لیے وقف اور چھترپتی شیواجی مہاراج کی زندگی پر مبنی تاریخی عظیم ڈرامہ ’جانتا راجا‘ کے اسٹیج پر بھارت ایکسپریس کے چیئرمین اپیندر رائے خصوصی طور پر شرکت کریں گے۔ ’بھارت ایکسپریس‘ اس عظیم الشان ثقافتی تقریب کا میڈیا پارٹنر ہے۔

نئی دہلی میں منعقد ہونے والے ’ایجوکیشن ورلڈ انڈیا اسکول رینکنگز 2026-27 ایوارڈز‘ میں بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اور ایڈیٹر اِن چیف اپیندر رائے ہوں گے شریک، ملک بھر کے سرکردہ تعلیمی اداروں کی اہم شخصیات کی ہوگی شرکت

راجدھانی دہلی میں مہاکوی گوپال داس نیرج کی یاد میں ’کارواں گیتوں کا… نیرج‘ پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام میں مرکزی وزیر ایس پی سنگھ بگھیل اور بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اپیندر رائے سمیت کئی معزز شخصیات نے شرکت کی۔

دہلی کے ماولنکر ہال میں منعقد پینٹنگ نمائش ’ڈسکور دی پاور آف ایکسپریشن‘ میں بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اپیندر رائے پہنچے۔ انہوں نے خصوصی بچوں کے ہنر اور فنکارانہ صلاحیتوں کی جم کر تعریف کی۔

بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک، مہاکوی گوپال داس نیرج فاؤنڈیشن ٹرسٹ اور سونوی ایونٹس ممبئی کے مشترکہ اہتمام میں منعقد ’کارواں گیتوں کا… نیرج‘ پروگرام میں نیرج کے مقبول گیتوں اور نظموں کی شاندار پیشکش کی گئی۔ اس موقع پر مرکزی وزیر مملکت پروفیسر ایس پی سنگھ بگھیل، سی ایم ڈی اپیندر رائے سمیت ادب، فن اور سنیما کی دنیا سے وابستہ کئی معزز شخصیات موجود رہیں۔

میچ کے دوران سالٹ لیک اسٹیڈیم میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سی ایم ڈی اپیندر رائے نے کہا کہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بھارت کے لیے یہ فرینڈلی میچ ایک نیا اور مثبت پیغام لے کر آیا ہے۔ فیفا کی عالمی معیار کی ٹیم کے ساتھ آج بھارتی ٹیم کھیل رہی ہے اور ملک اس کا گواہ بن رہا ہے

اندور میں 2 سے 4 اکتوبر تک بھارتی صحافت میلے کے 18ویں سیزن کا انعقاد، ’جین زی کے ساتھ بدلتی دنیا‘ ہوگی اس بار کی تھیم

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے بڑھانے کے لیے کر رہے ہیں اہم کام، ان کی اردو سے محبت قابلِ تحسین ہے

مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن میں اردو صحافت کے حال و مستقبل، قومی مکالمے میں اس کے کردار اور بدلتے ابلاغی منظرنامے پر ممتاز شخصیات بامعنی تبادلہ خیال کریں گی۔

فلم کی پروڈیوسر نے بتایا کہ انہوں نے یہ فلم تجارتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ نئی نسل کو سناتن دھرم سے جوڑنے کے مقصد سے بنائی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے اپنی پوری پونجی اس فلم میں لگا دی اور اپنی فلم کی کشتی ہنومان جی اور بابا نیم کروّلی کے بھروسے چھوڑ دی۔‘‘انوپریا ناگر نے مزید بتایا کہ بہت جلد فلم کا دوسرا حصہ بھی عقیدت مندوں کے سامنے پیش کیا جائے گا۔