تلنگانہ کے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے اپنی کابینہ کی وزیر کونڈا سریکھا کو فوری اثر سے وزارت سے ہٹا دیا ہے۔ وزیراعلیٰ کی سفارش پر ریاست کے گورنر کو اس سلسلے میں تجویز بھیج دی گئی تھی۔ کونڈا سریکھا کی بیٹی کونڈا سشمتا پٹیل کی جانب سے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے خلاف کیے گئے تبصروں کے بعد یہ معاملہ تنازع کا مرکز بن گیا تھا۔ اس معاملے پر کانگریس کے کئی ارکان اسمبلی نے پارٹی قیادت سے مطالبہ کیا تھا کہ وزیراعلیٰ اور دیگر لیڈروں کے خلاف کیے گئے تبصروں کے سلسلے میں مناسب کارروائی کی جائے۔
کونڈا سریکھا نے ملیکارجن کھڑگے سے ملاقات کی تھی
وزیر کونڈا سریکھا نے بدھ، 2 ستمبر کو نئی دہلی میں کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے اور تلنگانہ کانگریس کی انچارج میناکشی نٹراجن سے ملاقات کی تھی۔ ملاقات کے بعد سریکھا نے کہا تھا کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے انہیں یقین دلایا ہے کہ ان کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل پر غور کیا جائے گا اور مکمل سوچ بچار کے بعد ہی کوئی فیصلہ لیا جائے گا۔
بیٹی کے بیان سے پیدا ہوا تھا تنازع
کونڈا سشمتا پٹیل نے ورنگل ضلع کے پرکل میں اپنی والدہ کی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب میں وزیراعلیٰ ریونت ریڈی اور ان کے خاندان کے حوالے سے تبصرے کیے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ وزیراعلیٰ اور ان کے خاندان نے ان لوگوں کو فراموش کر دیا جنہوں نے ان کے سیاسی عروج میں مدد کی تھی۔ انہوں نے شیل کمپنیوں کے ذریعے ریاست کو مبینہ طور پر لوٹنے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ ان بیانات کے بعد معاملہ کانگریس کی ڈسپلنری کمیٹی کے سامنے پہنچ گیا تھا، جس کے بعد پارٹی کے اندر بھی کارروائی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔ وزیراعلیٰ کے دفتر کے مطابق ریونت ریڈی نے ڈاکٹر جی چنا ریڈی کی تلنگانہ پلاننگ بورڈ کے نائب صدر کے عہدے پر تقرری بھی فوری اثر سے منسوخ کر دی ہے۔ ان کی جگہ گڑوال وجے لکشمی کو تلنگانہ پلاننگ بورڈ کا نائب صدر مقرر کیا گیا ہے۔
نئی تقرریاں بھی کی گئیں
وزیراعلیٰ نے نریلا شاردا کو تلنگانہ ریاستی خواتین کمیشن، حیدرآباد کی چیئرپرسن مقرر کیا ہے۔ اس کے علاوہ سابق راجیہ سبھا رکن جی سدھا رانی کو کاکتیہ اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (KUDA) کا چیئرپرسن بنایا گیا ہے۔ کونڈا سریکھا کو کابینہ سے ہٹانے اور دیگر اہم عہدوں پر نئی تقرریوں کے بعد تلنگانہ کانگریس میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہونے کے امکانات ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

