تہلکہ میگزین کے سابق ایڈیٹرترون تیج پال کوآبروریزی معاملے بامبے ہائی کورٹ نے 10 سال کی سزا سنائی ہے۔ بامبے ہائی کورٹ نے گوا کی نچلی عدالت کے فیصلے کوپلٹتے ہوئے انہیں قصوروارقراردیا۔ اس فیصلے کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ یقینی طورپرسپریم کورٹ جائیں گے۔ ترون تیج پال جنسی استحصال معاملے میں گوا پولیس کی جانچ افسرسنیتا ساونت نے کہا کہ انہیں 10 سال کی قید کی سزا اورپانچ لاکھ روپئے کے جرمانہ کی سزا سنائی گئی ہے۔ انہیں سرینڈرکرنے کے لئے دوہفتے کا وقت دیا گیا ہے۔
ترون تیج پال نے کیا کہا؟
ترون تیج پال نے کہا، ’’سیاسی بدلے کے جذبے اور’تہلکہ’ کے کام کی وجہ سے میرے پیچھے پڑے ہیں۔ ہم نے ٹرائل کورٹ میں 7.5 سال تک کیس لڑا اوربری ہوگیا۔ جولوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ بری ہوجاتے ہیں، لیکن وہ ان کے پیچھے پڑتے ہیں، جنہوں نے ان کے خلاف لکھا ہے۔‘‘
Bombay High Court at Goa convicts Tehelka magazine Founder Tarun Tejpal in the 2013 sexual assault case pic.twitter.com/CSliQfbLa1
— ANI (@ANI) August 6, 2026
عمرخالد اورشرجیل امام کا بھی آیا سامنے
انہوں نے کہا-’’عمرخالد اورشرجیل امام کئی سالوں سے جیل میں ہیں۔ ’تہلکہ‘ کی رپورٹنگ سے شاید انہیں کچھ سیاسی نقصان ہوا ہویا ان کے ذاتی مفاد کوچوٹ پہنچی ہو۔ وہ گزشتہ 13 سالوں سے بدلے کے جذبہ سے میرے پیچھے پڑے ہیں مجھے عدلیہ پرمکمل بھروسہ ہے کہ ایسے جج ہوں گے، جو سچ دیکھیں گے۔ ہم ثبوت سب کے سامنے رکھیں گے۔‘‘ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ یہ معاملہ تقریباً 13 سال پرانا ہے۔ اس دوران ملزم کے خلاف کسی دیگرطرح کے استحصال کا الزام سامنے نہیں آیا اوردونوں فریق اپنی اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکے ہیں۔
فیصلے کے وقت عدالت میں موجود تھے ترون تیج پال
عدالت کی طرف سے فیصلہ سنائے جاتے وقت ترون تیج پال بھی عدالت میں موجود تھے۔ کیونکہ بینچ نے فیصلے کے لئے معاملہ محفوظ رکھتے وقت انہیں فیصلہ سنائے جانے کے دوران عدالت میں موجود رہنے کا حکم دیا تھا۔ ہائی کورٹ کی بینچ نے ریاست کی سی آئی ڈی کی طرف سے داخل اپیل پرفیصلہ سنایا، جس کی نمائندگی سالسٹر جنرل تشار مہتا اور گوا کے ایڈوکیٹ جنرل دیوی داس پنگم نے کی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


