سپریم کورٹ آف انڈیا۔ (فائل فوٹو)
سپریم کورٹ نے جمعہ کو شہریت ترمیمی قانون یعنی سی اے اے پر روک لگانے کی درخواستوں پر 19 مارچ کو سماعت کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔سینئر وکیل کپل سبل نے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کے سامنے اس مسئلہ کا ذکر کیا ، جس پرانہوں نے کہا کہ یہ معاملہ اگلے ہفتے درج کیا جائے گا۔سال 2019سے اب تک سپریم کورٹ میں دائر دو سو سے زیادہ متصل درخواستوں کے ایک گروپ نے سی اے اے کی مختلف دفعات کو چیلنج کیا ہے۔ اس قانون کا مقصد غیر مسلم پناہ گزینوں کو تیزی سے شہریت دینا ہے، جو 31 دسمبر 2014 کو یا اس سے پہلے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے مذہبی ظلم و ستم کی وجہ سے ہندوستان آئے تھے۔
حالانکہ سی اے اے کو دسمبر 2019 میں پارلیمنٹ نے پاس کیا تھا،لیکن مرکزی حکومت نے چار سال بعد پیرکے دن اس کے لیے قواعد جاری کیا جس کے بعد اپوزیشن نے اس پر سوالات اٹھانے شروع کردئے۔ مخالفین کا دعویٰ ہے کہ نوٹیفکیشن قوانین “غیر آئینی”، “امتیازی” اور آئین میں درج “شہریت کے سیکولر اصول” کی خلاف ورزی کرتا ہے۔سی اے اے کے ناقدین نے یہ بھی استدلال کیا کہ مسلمانوں کو اس کے دائرہ کار سے خارج کرکے اور شہریت کو مذہبی شناخت سے جوڑ کر، یہ قانون ہندوستانی آئین میں درج سیکولر اصولوں کو مجروح کرتا ہے۔
تاہم، مرکز نے بار بار واضح کیا ہے کہ سی اے اے شہریت دینے کے بارے میں ہے اور ملک کا کوئی بھی شہری شہریت سے محروم نہیں ہوگا۔جمعرات کو نیوز ایجنسی اے این آئی کے ساتھ ایک انٹرویو میں، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے زور دے کر کہا کہ سی اے اے کو کبھی واپس نہیں لیا جائے گا اور بی جے پی کی قیادت والی حکومت اس کے ساتھ کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔سینئر بی جے پی لیڈر نے کہا کہ یہ ہمارے ملک میں ہندوستانی شہریت کو یقینی بنانا ہمارا خود مختار حق ہے، ہم اس پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور سی اے اے کو کبھی واپس نہیں لیا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



