Urdu Conclave 2026

Ram Mandir Donation Theft Case: رام مندر چندہ چوری کیس پہنچاسپریم کورٹ، سی بی آئی تحقیقات کی درخواست پر 13 جولائی کو اہم سماعت

اب پورے معاملے پر سب کی نظریں 13 جولائی کو ہونے والی سماعت پر لگی ہوئی ہیں، جہاں سپریم کورٹ درخواست گزاروں کے مطالبات، الزامات اور قانونی نکات کا جائزہ لینے کے بعد اپنا ابتدائی مؤقف واضح کر سکتی ہے۔ اس سماعت کے نتیجے کو رام مندر ٹرسٹ کے مالی انتظام اور مذہبی اداروں میں شفافیت کے حوالے سے نہایت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔

نئی دہلی : ایودھیا کے شری رام جنم بھومی مندر میں عقیدت مندوں کی جانب سے دیے گئے چندے میں مبینہ بے ضابطگیوں اور چوری کے الزامات کا معاملہ اب سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ ملک کی اعلیٰ عدالت اس حساس معاملے پر 13 جولائی کو اہم سماعت کرے گی، جس پر ملک بھر کے کروڑوں رام بھکتوں اور عوام کی نظریں مرکوز ہیں۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں تین رکنی آئینی بنچ اس کیس کی سماعت کرے گی۔سپریم کورٹ کے سامنے اس معاملے سے متعلق مجموعی طور پر تین الگ الگ عرضیاں پیش کی گئی ہیں۔ ان عرضیوں میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ رام مندر میں چندے کے مبینہ غلط استعمال اور مالی بے ضابطگیوں کی جانچ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے حوالے کی جائے یا پھر ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دے کر غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔درخواست گزاروں نے عدالت سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ رام مندر ٹرسٹ کے مالی معاملات، چندے کے انتظام اور شفافیت کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین پر مشتمل ایک آزاد ایکسپرٹ کمیٹی قائم کی جائے۔

اس کے علاوہ ٹرسٹ کا فرانزک آڈٹ کسی آزاد اور معتبر ایجنسی سے کرانے کی بھی درخواست کی گئی ہے تاکہ تمام مالی لین دین کی مکمل جانچ ممکن ہو سکے۔عرضیوں میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ رام مندر کو موصول ہونے والے چندے کی تفصیلات کو سرکاری ویب سائٹ پر براہ راست (لائیو) عوام کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ ہر عقیدت مند یہ جان سکے کہ اس کی جانب سے دیا گیا چندہ کس طرح استعمال ہو رہا ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ اس سے مندر کے مالی انتظام میں شفافیت اور عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔

اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس سوریہ کانت کے علاوہ جسٹس جوی مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل تین رکنی بنچ کرے گی۔ یہ تینوں عرضیاں وکیل نریندر کمار گوسوامی، وکیل اجے کمار رائے اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رکن پارلیمنٹ سدھاکر سنگھ کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔درخواست گزاروں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ معاملہ صرف مالی بے ضابطگیوں تک محدود نہیں بلکہ کروڑوں ہندو عقیدت مندوں کے مذہبی جذبات اور اعتماد سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ایک عرضی میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ مندر میں آنے والے تمام نذرانوں اور چندے کو مقدس ٹرسٹ کی ملکیت قرار دیا جائے اور اس کے شفاف، جوابدہ اور قابلِ اعتماد انتظام کو یقینی بنانے کے لیے سپریم کورٹ مناسب ہدایات جاری کرے۔

اب پورے معاملے پر سب کی نظریں 13 جولائی کو ہونے والی سماعت پر لگی ہوئی ہیں، جہاں سپریم کورٹ درخواست گزاروں کے مطالبات، الزامات اور قانونی نکات کا جائزہ لینے کے بعد اپنا ابتدائی مؤقف واضح کر سکتی ہے۔ اس سماعت کے نتیجے کو رام مندر ٹرسٹ کے مالی انتظام اور مذہبی اداروں میں شفافیت کے حوالے سے نہایت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read