Bharat Express DD Free Dish

Ram Mandir Donation Theft Case

تلنگانہ میں جاری خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے حوالے سے اویسی نے کہا کہ میپنگ میں بے ضابطگیوں، جیسے 6 سے زیادہ بچوں کی میپنگ والے معاملات کے سلسلے میں ووٹروں کو ایس آئی آر نوٹس بھیجے جا رہے ہیں۔

گزشتہ 20 جولائی کو مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی، ایودھیا رام مندر کے چندے میں مبینہ بے ضابطگیوں اور دیگر معاملات کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے احتجاجی مارچ کیا گیا۔ یہ مارچ پریرنا استھل پر مہاتما گاندھی کے مجسمے سے شروع ہو کر مکر دروازے تک نکالا گیا۔

لوک سبھا فی الحال پیپرلیک کو روکنے کے لئے ایک ترمیمی بل پربحث کر رہی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے پیپر لیک سے متعلق حکومت پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔ اکھلیش یادو نے دعویٰ کیا کہ اترپردیش میں 20 سے زائد امتحانات کے پرچے لیک ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ رام مندر میں دیئے گئے چندے اور چڑھاوے میں بھی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایس آئی ٹی اس بار اضافی دستاویزات کا جائزہ لینے، چندے کے انتظام سے متعلق ریکارڈ کی جانچ کرنے اور ٹرسٹ کے ذمہ داران سے تفصیلی پوچھ گچھ کے لیے دوبارہ ایودھیا پہنچ سکتی ہے۔ ابتدائی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ نقد چندے کی گنتی کے دوران کئی مرتبہ حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی،

وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا، ’’انہوں نے ہنومان گڑھی کی سیڑھیوں پر نماز پڑھوانے کا گناہ کیا اور ہم نے ایودھیا کو صاف، خوبصورت اور سناتن دھرم کے مرکز کے طور پر پھر سے قائم کرنے کا کام کیا ہے۔ آج ایودھیا ایک شاندار شہر کے طور پر ترقی کررہا ہے۔

اب پورے معاملے پر سب کی نظریں 13 جولائی کو ہونے والی سماعت پر لگی ہوئی ہیں، جہاں سپریم کورٹ درخواست گزاروں کے مطالبات، الزامات اور قانونی نکات کا جائزہ لینے کے بعد اپنا ابتدائی مؤقف واضح کر سکتی ہے۔ اس سماعت کے نتیجے کو رام مندر ٹرسٹ کے مالی انتظام اور مذہبی اداروں میں شفافیت کے حوالے سے نہایت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔

چمپت رائے نے اپنے استعفے کی منظوری کے بعد اس معاملے میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے کردارپربھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کو ہندی میں دیئے گئے اپنے ایک صفحے کے تحریری بیان میں انہوں نے الزام لگایا کہ بینک کے قواعد کی خلاف ورزی ہوتی رہی، لیکن اس پر کبھی توجہ نہیں دی گئی۔

پولیس اب بحال شدہ چیٹس میں درج رقوم کا ملزمان کے بینک کھاتوں میں ہونے والے لین دین سے موازنہ کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ مبینہ طور پر چوری کی گئی رقم سے کن افراد نے کار، موٹر سائیکل، مکان یا دیگر جائیدادیں خریدیں۔ اگر بینک ریکارڈ اور چیٹس میں موجود معلومات آپس میں مطابقت رکھتی ہیں تو یہ شواہد کیس کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔

بدریناتھ دھام میں چڑھاوے اور عطیات میں بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد مندر کمیٹی نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

آرایس ایس کے سرکاریہ واہک دتاتریہ ہوسبلے نے کہا کہ رام مندرمیں چڑھاوے کی مبینہ چوری کے معاملے پر اس وقت جو ابہام اور غیر یقینی کی صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے، وہ ختم ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جوابہام اور غیر یقینی کی فضا پیدا ہوگئی ہے، اسے جلد ازجلد ختم ہونا چاہئے۔ ہماری توقع ہے کہ مندر انتظامیہ اور حکومت کی تشکیل کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات کرے گی۔