ایودھیا کے رام مندر میں چندے کی مبینہ چوری کے معاملے پر جاری بحث کے درمیان اب بدریناتھ دھام بھی سوالوں کے گھیرے میں آ گیا ہے۔ یہاں چڑھاوے اور عطیات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑ گئی ہے اور صارفین مندر انتظامیہ سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مندر کمیٹی نے فوری کارروائی کی
بدریناتھ-کیدارناتھ مندر کمیٹی (BKTC) نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری جانچ کا حکم دے دیا ہے۔ کمیٹی کے صدر ہیمنت دویدی نے کہا کہ الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جبکہ جن ملازمین پر سوالات اٹھائے گئے ہیں ان سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر تحقیقات میں کوئی بھی ملازم قصوروار پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور کسی کو بھی رعایت نہیں دی جائے گی۔
نجی سیکریٹری سے متعلق دعویٰ بھی غلط نکلا
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ویڈیو میں نظر آنے والا شخص ہیمنت دویدی کا نجی سیکریٹری ہے، تاہم کمیٹی کے صدر نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ شخص ان کا نجی سیکریٹری نہیں بلکہ مندر کمیٹی کا باقاعدہ سرکاری ملازم ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر دوہرایا کہ اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو قانون کے مطابق سخت کارروائی ہوگی۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر تحقیقات
مندر کمیٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سوہن سنگھ رانگڑ نے بتایا کہ یہ معاملہ 2 جولائی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ شکایت موصول ہونے کے بعد مندر کے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا گیا، تاہم فوٹیج مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔ اس کے باوجود تمام شواہد اور بیانات کی بنیاد پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک داخلی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے، جو تمام ثبوتوں کا جائزہ لینے کے بعد اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
قصوروار ثابت ہونے پر سخت کارروائی
سوہن سنگھ رانگڑ کے مطابق اگر تحقیقات میں مالی بے ضابطگی یا چڑھاوے میں خردبرد ثابت ہوتی ہے تو شری بدریناتھ-کیدارناتھ مندر کمیٹی ایکٹ 1939 اور ملازمین کے ضابطۂ اخلاق کے تحت ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ تحقیقات مکمل ہونے تک غیر مصدقہ اطلاعات اور افواہوں پر یقین نہ کریں اور بے بنیاد الزامات پھیلانے سے گریز کریں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
