نئی دہلی : ایودھیا کے رام مندر میں چندے کی مبینہ خرد برد کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی اتر پردیش حکومت کی تشکیل کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) آئندہ چند دنوں میں دوبارہ ایودھیا کا دورہ کر سکتی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس دوران شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ سے وابستہ عہدیداروں اور چندہ انتظامی نظام سے جڑے دیگر افراد سے بھی پوچھ گچھ کیے جانے کا امکان ہے۔رام مندر کے چندے میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آنے کے بعد ٹرسٹ کی درخواست پر اتر پردیش حکومت نے 13 جون کو لکھنؤ کے ڈویژنل کمشنر وجے وشواس پنت کی سربراہی میں تین رکنی ایس آئی ٹی تشکیل دی تھی۔ تحقیقاتی ٹیم نے 23 جون کو اپنی ابتدائی رپورٹ ریاستی حکومت کے حوالے کی تھی، جسے وجے وشواس پنت نے ایڈیشنل چیف سکریٹری (داخلہ) سنجے پرساد کو پیش کیا۔ اس وقت ایس آئی ٹی نے واضح کیا تھا کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مکمل جانچ کے بعد حتمی رپورٹ پیش کی جائے گی۔ بعد ازاں یکم جولائی کو حکومت نے ایس آئی ٹی کی مدت میں مزید 15 دن کی توسیع کر دی تھی۔
ذرائع کے مطابق ایس آئی ٹی اس بار اضافی دستاویزات کا جائزہ لینے، چندے کے انتظام سے متعلق ریکارڈ کی جانچ کرنے اور ٹرسٹ کے ذمہ داران سے تفصیلی پوچھ گچھ کے لیے دوبارہ ایودھیا پہنچ سکتی ہے۔ ابتدائی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ نقد چندے کی گنتی کے دوران کئی مرتبہ حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی، جب کہ نگرانی کے نظام میں موجود خامیوں کے باعث مبینہ خرد برد کے امکانات پیدا ہوئے۔ادھر پولیس نے مالیاتی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے ملزمان کی آمدنی، بینک کھاتوں، منقولہ و غیر منقولہ جائیداد اور سرمایہ کاری سے متعلق تفصیلات محکمہ انکم ٹیکس، بینکوں، تحصیل دفاتر اور سب رجسٹرار کے دفاتر سے طلب کر لی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ضلع ایودھیا سے باہر موجود ممکنہ جائیدادوں کی بھی تصدیق کی جا رہی ہے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا ملزمان نے اپنے رشتہ داروں یا قریبی افراد کے نام پر کوئی مشتبہ سرمایہ کاری تو نہیں کی۔ذرائع کے مطابق یہ تمام دستاویزات مستقبل میں استغاثہ کے شواہد کا حصہ بن سکتی ہیں۔ پولیس اب تک کی کارروائی کے دوران تقریباً 80 لاکھ روپے نقد برآمد کر چکی ہے، جبکہ بعد میں ہونے والی تلاشی میں مزید نقد رقم اور زیورات بھی ضبط کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب شری رام جنم بھومی مندر انتظامیہ نے اپنی سکیورٹی پالیسی میں بھی اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ اب ٹرسٹ کے سابق جنرل سکریٹری چمپت رائے، گوپال راؤ اور ٹرسٹی ڈاکٹر انل مشرا کی شناخت پر جاری کیے جانے والے وی وی آئی پی پاسوں کے ذریعے عقیدت مندوں کو داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چمپت رائے اور ڈاکٹر انیل مشرا کے عہدوں سے استعفیٰ دینے کے بعد ان کے شناختی کارڈ غیر فعال کر دیے گئے، جس کے باعث پہلے سے جاری تمام خصوصی پاس خود بخود منسوخ ہو گئے۔اس معاملے میں پولیس نے جیل میں بند دو ملزمان کی سات روزہ پولیس ریمانڈ بھی طلب کی ہے تاکہ نئے شواہد اکٹھے کیے جا سکیں اور تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔ عدالت نے اس درخواست پر سماعت کے لیے 14 جولائی کی تاریخ مقرر کی ہے۔ اب تک اس مقدمے میں آٹھ افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں، جن میں چندے کی گنتی سے وابستہ ٹرسٹ کے ملازمین بھی شامل ہیں، جبکہ تحقیقاتی ادارے مالی لین دین، سرمایہ کاری اور جائیدادوں کی خرید و فروخت کی مکمل چھان بین کر رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

