Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court on Student Protest: سپریم کورٹ سے مظاہرین کو بڑی راحت، عدالت نے سبھی گرفتار مظاہرین کی رہائی کا دیا حکم

عدالت نے سبھی ریاستوں کی پولیس کوان کے یہاں درج ایف آئی آر کی جانچ جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگلی سماعت تک مظاہرین کے خلاف گرفتاری جیسی کوئی تعزیری کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے حالیہ دنوں ملک بھرمیں طلبہ کے احتجاج سے متعلق مقدمات میں اہم عبوری احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلی سماعت تک مظاہرین کی گرفتاری نہ کی جائے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ جن افراد کوحراست میں لیا جا چکا ہے اورجن کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے، انہیں فوری طورپررہا کیا جائے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اشارہ دیا کہ ان واقعات کی جانچ کے لئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جا سکتی ہے، جس کی قیادت سپریم کورٹ کے کسی سابق جج کوسونپی جا سکتی ہے۔

8 ریاستوں کو نوٹس

عدالت نے کہا کہ اس معاملے کی آئندہ سماعت پیر، 3 اگست کوہوگی۔ جنترمنترپرطلبا کے احتجاج اوراس کے بعد دہلی سمیت مختلف ریاستوں میں پولیس کارروائی سے متعلق مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے دہلی، مہاراشٹر، مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، بہار، آسام، کیرالہ اوراترپردیش کی حکومتوں کونوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے ان ریاستوں کے چیف سکریٹریوں کوآن لائن پیش ہونے کی بھی ہدایت دی ہے۔

مرکز نے طلبہ کے احتجاج کے حق کی حمایت کی

سماعت کے دوران مرکزاوردہلی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹرجنرل تشارمہتا نے کہا کہ طلبہ کوپرامن احتجاج کا آئینی حق حاصل ہے، تاہم تشدد کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج میں کچھ جرائم پیشہ عناصربھی شامل ہوگئے تھے اورایسے کئی افراد کی شناخت کی جا چکی ہے، جن پرقتل اورعصمت دری جیسے سنگین مقدمات درج ہیں۔

الیکٹرانک شواہد محفوظ رکھنے کی ہدایت

سپریم کورٹ نے تمام ریاستوں کوحکم دیا ہے کہ اس معاملے سے متعلق تمام سی سی ٹی وی فوٹیج، کیمروں کی ریکارڈنگ، وائرلیس کمیونیکیشن، کال ڈیٹیل ریکارڈزاوردیگرالیکٹرانک شواہد محفوظ رکھے جائیں تاکہ تحقیقات پرکوئی اثرنہ پڑے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ احتجاج میں شریک افراد، خصوصاً طلبا کی ذاتی معلومات اورڈیٹا کوعوامی نہ بنایا جائے۔

پولیس تحقیقات جاری رکھ سکتی ہے، لیکن گرفتاری نہیں

سپریم کورٹ نے دہلی سمیت تمام ریاستوں کی پولیس کودرج ایف آئی آرکی تحقیقات جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔ تاہم واضح کیا کہ آئندہ سماعت تک مظاہرین کے خلاف گرفتاری یا کسی بھی قسم کی تعزیری کارروائی نہیں کی جائے گی۔ عدالت نے بہارمیں کم عمرمظاہرین کوحراست میں رکھنے کے الزامات پربھی سخت تشویش ظاہرکرتے ہوئے حکم دیا کہ اگرکسی نابالغ کوحراست میں رکھا گیا ہے تواسے فوری طورپررہا کیا جائے۔ اسی طرح ایسے تمام مظاہرین، جن کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے، انہیں بھی بلا تاخیررہا کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read