سپریم کورٹ سے راحت ملنے کے بعد اروند کیجریوال کی پریشانی میں راؤز ایوینیو کورٹ سے اضافہ ہوگیا ہے۔
Arvind Kejriwal Bail Hearing in Supreme Court: دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال اورعام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال سپریم کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ سپریم کورٹ نے جمعہ (10 مئی) کوکیجریوال کو یکم جون تک عبوری ضمانت دی ہے۔ دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے لوک سبھا الیکشن کی انتخابی تشہیرکرنے کے لئے عبوری ضمانت دینے سے متعلق عدالت میں عرضی داخل کی تھی۔ دہلی شراب پالیسی معاملے میں اروند کیجریوال کوانفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے 21 مارچ کوگرفتارکیا تھا۔
ای ڈی کی حراست میں بند اروند کیجریوال کی طرف سے کہا گیا تھا کہ انتخابی تشہیرمیں حصہ لینے کے لئے انہیں ضمانت ملنی چاہئے۔ حالانکہ جانچ ایجنسی نے پہلے ہی عام آدمی پارٹی کے سربراہ کوضمانت دیئے جانے کی مخالفت کی تھی۔ ای ڈی کا کہنا تھا کہ کیجریوال کواگرضمانت دی جاتی ہے، تواس سے غلط پیغام جائے گا۔ ان کے ساتھ کسی خاص انسان کی طرح پیش نہیں ہوا جاسکتا ہے۔ حالانکہ جسٹس سنجیوکھنہ اوردیپانکردتہ کی بینچ نے دلیلیں سننے کے بعد کیجریوال کوضمانت دی ہے۔
ای ڈی نے حلف نامہ داخل کرکے کی تھی ضمانت کی مخالفت
گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے اشارہ دیا تھا کہ وہ اروند کیجریوال کو ضمانت دے سکتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جمعرات کو ای ڈی نے ایک حلف نامہ داخل کرکے کیجریوال کی عرضی کی مخالفت کی تھی۔ جانچ ایجنسی نے کہا تھا کہ قانون سبھی کے لئے مساوی ہیں اورلوک سبھا الیکشن کے لئے تشہیر کرنا کوئی بنیادی، آئینی یا قانونی حق بھی نہیں ہے۔
جانچ ایجنسی نے کہا تھا کہ کسی بھی سیاسی لیڈرکو انتخابی تشہیر کے لئے ضمانت نہیں دی گئی ہے۔ اروند کیجریوال کو عام آدمی پارٹی کے امیدواروں کے لئے انتخابی تشہیر کرنے کے لئے جیل سے باہرجانے دینا ایک غلط مثال قائم کرے گا۔ اس سے پہلے منگل کو دہلی کی راؤزایوینیو کورٹ نے کیجریوال کی عدالتی حراست کو 20 مئی تک بڑھا دی تھی۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
