Bharat Express DD Free Dish

Mohibullah Nadvi on Swatantra Bhardwaj’s Arrest: سوتنترا بھاردواج کی گرفتاری پر ایس پی رکن پارلیمنٹ ندوی کا حملہ، کہا- آئینی ذمہ داری نہیں نبھا رہی بی جے پی حکومت

رکن پارلیمنٹ محبُ اللہ ندوی نے کہا کہ ہندو اور مسلمان بی جے پی اور سنگھ کے ظلم کے خلاف مل کر آواز اٹھا رہے ہیں۔ ایسے میں ان کی کوشش ہے کہ لڑائی کو یہ رنگ دے کر اسے کمزور کر دیا جائے۔

سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر محبُ اللہ ندوی۔

نئی دہلی: سوشل میڈیا انفلوئنسر سوتنترا بھاردواج کی گرفتاری پر سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر محبُ اللہ ندوی نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے کہ آئینی عہدوں پر فائز ذمہ دار افراد آئین کی حفاظت کی قسم کھانے کے باوجود اس پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔ ایس پی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ سچ بولنے والوں کے خلاف کارروائی میں سستی دکھائی جاتی ہے، جبکہ سزا کے بعد رہا ہونے والے مجرموں کا مالا پہنا کر استقبال کیا جاتا ہے، جو ہندوستانی معاشرے کی ثقافت کا حصہ نہیں ہے۔

طلبہ کی تحریک پر پولیس کے رویے کی مذمت

ایس پی رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر محبُ اللہ ندوی نے کہا، ’’جس طرح دہلی میں طلبہ کی تحریک کے دوران پولیس کا رویہ رہا، اپوزیشن کے تمام لوگ اس کی مذمت کر رہے ہیں۔ خاص طور پر سماج وادی پارٹی اور اکھلیش یادو اس بات پر سب سے زیادہ زور دیتے ہیں کہ سماجی انصاف کی حکمرانی قائم ہو۔ طلبہ ہمارے ملک کا مستقبل ہیں۔ خواتین کے خلاف توہین کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہ سلسلہ رک نہیں رہا ہے۔ دو خاتون صحافی وزیر اعلیٰ سے کچھ سوال کر رہی تھیں تو انہیں نہ صرف مارا گیا بلکہ ان کی توہین میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔‘‘

انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں صحافیوں کو چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ جب ہماری بہن یا بیٹی صحافی ہو تو ہمیں اسے اتنی ہی عزت اور احترام دینا چاہیے، لیکن بی جے پی نے اس بات کا خیال نہیں رکھا۔ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دو طبقوں کی لڑائی دو قوموں کی لڑائی نہیں ہوتی، لیکن بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ دو افراد کی لڑائی کو دو برادریوں کی لڑائی میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ظلم کے خلاف مل کر آواز اٹھا رہے ہیں ہندو اور مسلمان

رکن پارلیمنٹ محبُ اللہ ندوی نے کہا، ’’ہندو اور مسلمان بی جے پی اور سنگھ کے ظلم کے خلاف مل کر آواز اٹھا رہے ہیں۔ ایسے میں ان کی کوشش ہے کہ لڑائی کو یہ رنگ دے کر اسے کمزور کر دیا جائے۔ یہ لوگ پچھتا رہے ہیں۔ اسی طرح 2020 میں جامعہ میں جب طلبہ تحریک چل رہی تھی، لائبریری میں پڑھنے والے بچوں پر لاٹھی چارج کیا گیا تھا۔‘‘

انہوں نے الزام لگایا کہ ایک خاص ذہنیت کے لوگ ملک کو کمزور کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور کچھ لوگوں کے ذہنوں میں تشدد کا بیج بو رہے ہیں، تاکہ ہندوستانی عوام دو حصوں میں تقسیم ہو جائیں۔ کہیں مذہب اور کہیں ذات کے نام پر انہیں تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ تقسیم ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں اور انہوں نے طے کر لیا ہے کہ ملک کو خرابی اور منفی سوچ سے نجات دلانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی تاریخ میں ایس پی کا نظریہ ہے کہ سب کو انصاف ملے اور سماجی انصاف کی حکمرانی ہو۔ اکھلیش یادو کا یہ پیغام ہر طالب علم کے دل میں گھر کر رہا ہے۔

سچ بولنے والوں پر کارروائی میں ہوتی ہے سستی

سوتنترا بھاردواج کی گرفتاری کے حوالے سے ایس پی لیڈر نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک اور شرمناک بات ہے کہ ہمارے آئینی عہدوں پر بیٹھے ذمہ دار افراد، جنہوں نے آئین کی حفاظت کی قسم کھائی ہے، وہ اس پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا ایک بار نہیں بلکہ کئی بار ہوا ہے کہ لوگ سچ کو سچ کہہ دیتے ہیں اور نام بھی لے لیتے ہیں، لیکن ان کے خلاف کارروائی میں بہت سستی ہوتی ہے۔ عدالتوں میں جب کسی کو سزا ہوتی ہے اور اس کے بعد کسی وجہ سے رہائی مل جاتی ہے تو ان مجرموں کا مالا پہنا کر استقبال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی معاشرے میں ایسی ثقافت کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کی اس معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

عدم تشدد کی طاقت تشدد پسندوں سے کہیں زیادہ مضبوط

ایس پی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ مہاتما گاندھی نے عدم تشدد کی وجہ سے ہی دنیا کو ایک ایسا پیغام دیا، جس کے نتیجے میں ہم نے برطانوی حکومت سے آزادی حاصل کی۔ ہماری حساسیت، صبر اور عدم تشدد کی طاقت ان تشدد پسند لوگوں کی منفی باتوں سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read