سونیا گاندھی۔ (فائل فوٹو)
کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے ہفتے کے روز بی جے پی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کا آئین اس وقت خطرے میں ہے اور حکمراں جماعت اسے ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بی جے پی ہندوستانی آئین کو کبھی بھی قبول نہیں کیا ہے۔ سونیا گاندھی کا یہ بیان ’’آئینی چیلنجز: نقطۂ نظر اور راستے‘ کے عنوان سے ایک روزہ قومی قانونی اجلاس کے موقع پر آیا ہے، جو ڈاکٹر ابھیشیک منو سنگھوی کی قیادت میں منعقد ہوا۔
سونیا گاندھی نے کہا کہ ’’بی جے پی اور آر ایس ایس، جنھوں نے نہ آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا، نہ مساوات کے اصولوں کو تسلیم کیا، آج اقتدار کے ذریعے آئینی ڈھانچے کو کمزور کر رہے ہیں۔‘‘ سونیا گاندھی نے مزید الزام لگایا کہ بی جے پی ’’نظریاتی بغاوت‘‘ (Ideological Coup) کی راہ پر گامزن ہے اور جمہوریہ کی جگہ ایک تھیوکریٹک (مذہبی بنیاد پرست) کارپوریٹ ریاست قائم کرنا چاہتی ہے، جو صرف طاقتور افراد کے مفادات کی محافظ ہوگی۔
آئین اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے پارلیمنٹ سے لے کر سڑک تک، ہر جگہ لڑے گی کانگریس: سونیا گاندھی
سونیا گاندھی نے ہندوراشٹر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ان کے نظریاتی پیش رو منوسمرتی کو ترجیح دیتے تھے اور ترنگے کو مسترد کرتے تھے اور ہندو راشٹرا کا تصور رکھتے تھے جہاں جمہوریت کھوکھلی اور قانون امتیازی ہو۔‘‘ سونیا گاندھی نے بی جے پی حکومت پر آئینی اور حکومتی اداروں کو کمزور کرنے، اختلاف رائے کو جرم بنانے، اقلیتوں، دلتوں، آدیواسیوں، او بی سی اور غریب طبقات کو نظرانداز کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔
اس کے خلاف انھوں نے کانگریس کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی پارلیمنٹ، عدالتوں اور سڑکوں پر ہر جگہ اس کوشش کی مخالفت کرے گی جو آئین کو کمزور کرے، کیوں کہ یہ صرف سیاسی نہیں بلکہ ایک نظریاتی عہد ہے کہ ہر ہندوستانی کی عزت اور حقوق کا دفاع کیا جائے۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ آئین صرف ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ جمہوریت کی اخلاقی بنیاد ہے، جو انصاف، آزادی، مساوات اور بھائی چارے پر قائم ہے۔ انھوں نے بابا صاحب امبیڈکر کے اس انتباہ کو بھی یاد دلایا کہ اگر سماجی اور اقتصادی انصاف نہ ہو تو سیاسی جمہوریت صرف دکھاوے کی جمہوریت ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



