Bharat Express DD Free Dish

Hindu Rashtra

جمہوریت کی جگہ ہندو راشٹر کے مطالبے پر جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے سخت بیان دیا ہے۔ انہوں نے نیپال کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی ایک مذہب کو قوم پر مسلط کرنے سے ترقی ممکن نہیں ہوتی۔

موہن بھاگوت نے کہا کہ بھائی چارہ ہماری بنیادی روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”بھائی چارہ ہماری روایت ہے، لڑائی جھگڑا ہمارے مزاج میں نہیں ہے۔ ہم قوم پرستی نہیں بلکہ قومیت کی بات کرتے ہیں، کیونکہ متکبر قوم پرستی نے دو عالمی جنگیں کرائی تھیں“۔

انھوں نے بابا صاحب امبیڈکر کے اس انتباہ کو بھی یاد دلایا کہ اگر سماجی اور اقتصادی انصاف نہ ہو تو سیاسی جمہوریت صرف دکھاوے کی جمہوریت ہوگی۔

رام مندر کی پران پرتیشٹھا 22 جنوری کو ہونے جا رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس تقریب میں تقریباً ایک لاکھ عقیدت مند ایودھیا پہنچیں گے۔ وزیر اعظم نریندر مودی بھی پران پرتیسٹھا تقریب میں شرکت کریں گے۔

آرایس ایس چیف موہن بھاگوت نے مزید کہا کہ ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر نے دستور ساز اسمبلی میں کہا تھا کہ آزادی اور مساوات ایک ساتھ نہیں آتے۔ ان دونوں کو ایک ساتھ لانے کے لیے بھائی چارے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان سپریم ہے۔ ہم سب بھائی ہیں، اچھوت نہیں چلے گی۔ آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ ہمارے تمام مسائل کا حل خیر سگالی ہے۔

آر ایس ایس کے سربراہ بھاگوت نے کہاکہ "ہندوستان ایک 'ہندو راشٹر' ہے اور یہ ایک حقیقت ہے۔ نظریاتی طور پر تمام ہندوستانی ہندو ہیں اور ہندو کا مطلب تمام ہندوستانی ہیں۔ جو لوگ آج ہندوستان میں ہیں وہ ہندو کلچر، ہندو آباؤ اجداد اور ہندو سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں

ملک میں زبان، فرقہ اور سہولیات کے حوالے سے ہر قسم کے جھگڑے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سبھی کو ہندوستان کے اتحاد اور سالمیت کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔ اسلام نے پوری دنیا پر حملہ کیا، اسپین سے منگولیا تک پھیل گیا، رفتہ رفتہ وہاں کے لوگ بیدار ہوئے، انہوں نے حملہ آوروں کو شکست دی۔

ٹی راجہ سنگھ پہلے بھی ایسامتنازعہ بیان دے چکے ہیں۔ اس سے قبل جنوری میں انہوں نے کہا تھا کہ کیب اور فوڈ ڈیلیوری سروس ایپ سے ہندو لڑکیوں کے نام اور نمبر لے کر لو جہاد کیا جا رہا ہے۔