نئی دہلی: بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ دوطرفہ تجارتی معاہدے (بی ٹی اے) کو آگے بڑھانے کے لیے مذاکرات میں تیزی آنے والی ہے۔ بھارت میں امریکہ کے سفیر سرجیو گور نے پیر کے روز بتایا کہ امریکہ کے تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نئی دہلی میں مرکزی وزیرِ تجارت و صنعت پیوش گوئل کے ساتھ کئی مرحلوں میں بات چیت کریں گے۔ ان ملاقاتوں کا مقصد آئندہ ماہ نافذ ہونے والی اہم ٹیرف ڈیڈ لائن سے قبل تجارتی معاہدے کو آگے بڑھانا ہے۔ سرجیو گور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، نئی دہلی میں سفیر گریر کا استقبال کرنے کے لیے پُرجوش ہوں۔ امریکہ-بھارت تجارتی معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے وزیر پیوش گوئل کے ساتھ متعدد ملاقاتیں طے ہیں۔‘‘
جامع دوطرفہ تجارتی معاہدے کی راہ ہوسکتی ہے ہموار
پیوش گوئل اور جیمیسن گریر کے درمیان یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دونوں ممالک مجوزہ دوطرفہ تجارتی معاہدے کے پہلے مرحلے کے فریم ورک کو آئندہ ماہ کی اہم ٹیرف ڈیڈ لائن سے قبل حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزارتی سطح کی یہ ملاقات بھارت اور امریکہ کے درمیان جاری عبوری تجارتی معاہدے سے متعلق مذاکرات کا حصہ ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ عبوری معاہدہ مستقبل میں ایک جامع دوطرفہ تجارتی معاہدے کی راہ ہموار کرے گا۔ گزشتہ روز مرکزی وزیر پیوش گوئل نے بھی کہا تھا کہ ان کے امریکی ہم منصب تجارتی معاہدے پر تبادلۂ خیال کے لیے نئی دہلی آ رہے ہیں۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے پر بات چیت کے لیے میرے امریکی ہم منصب کل دہلی پہنچ رہے ہیں۔‘‘ اسی ماہ کے آغاز میں سکریٹری تجارت راجیش اگروال نے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت کا بنیادی مقصد فریم ورک معاہدے کو حتمی شکل دینا اور جامع تجارتی معاہدے سے متعلق مذاکرات کو آگے بڑھانا ہوگا۔ پیوش گوئل نے یہ بھی کہا تھا کہ بھارت اور امریکہ عبوری تجارتی معاہدے سے متعلق تمام زیر التوا امور کو حل کرنے کی سمت میں تیزی سے پیش رفت کر رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ بی ٹی اے کا پہلا مرحلہ آئندہ ماہ کے وسط تک مکمل کیا جا سکتا ہے۔
امریکہ نئی ٹیرف پالیسی کرسکتا ہے نافذ
یہ مذاکرات اس لیے بھی اہم سمجھے جا رہے ہیں کیونکہ امریکہ کی جانب سے اپنے تمام تجارتی شراکت دار ممالک پر عائد کیا گیا 10 فیصد عارضی ٹیرف 24 جولائی کو ختم ہونے والا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے رواں برس کے آغاز میں یہ عارضی ٹیرف ‘موسٹ فیورڈ نیشن’ (ایم ایف این) کسٹم ڈیوٹی کی شرحوں کے علاوہ نافذ کیا تھا۔ 150 دن کی مدت مکمل ہونے کے بعد امریکہ نئی ٹیرف پالیسی نافذ کر سکتا ہے۔ وزارتی سطح کے یہ تازہ مذاکرات 2 سے 4 جون کے درمیان نئی دہلی میں ہونے والی چیف مذاکرات کاروں کی سطح کی بات چیت کے بعد منعقد ہو رہے ہیں۔ ان ملاقاتوں میں بھی مجوزہ تجارتی معاہدے کو آگے بڑھانے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا تھا۔ بھارت اور امریکہ دونوں اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی تجارت میں اضافے کے مقصد سے مرحلہ وار تجارتی نظام پر کام کر رہے ہیں، جبکہ ایک جامع دوطرفہ تجارتی معاہدے کی سمت میں بھی پیش رفت جاری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

