Bharat Express DD Free Dish

India-US Trade Talks

بھارت اور امریکہ دونوں اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی تجارت میں اضافے کے مقصد سے مرحلہ وار تجارتی نظام پر کام کر رہے ہیں، جبکہ ایک جامع دوطرفہ تجارتی معاہدے کی سمت میں بھی پیش رفت جاری ہے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان ٹیرف اقدامات پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کیا جائے گا اور متعلقہ حکام جلد تفصیلی رہنما ہدایات جاری کریں گے۔ دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ایک مکمل دوطرفہ تجارتی معاہدے کی سمت پیش رفت جاری رکھیں گے،

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، اس فریم ورک کے اعلان سے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر عائد 25 فیصد اضافی ٹیرف ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر کے اس فیصلے کو نافذ کیا۔ یہ اضافی ٹیرف بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری کے تناظر میں لگایا گیا تھا۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے کو لے کر لوک سبھا میں بدھ کے روز حکومت کی جانب سے واضح اور دو ٹوک مؤقف سامنے آیا۔ مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے ایوان کو یقین دلایا کہ بھارت۔امریکہ ٹریڈ ڈیل مکمل طور پر متوازن ہے اور اس سے بھارتی کسانوں، زرعی شعبے اور ڈیری سیکٹر کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچے گا۔

بھارت کا ٹیکسٹائل اور ریڈی میڈ گارمنٹس سیکٹر اس معاہدے سے بڑا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اسی طرح جیمز اینڈ جیولری، جو بھارت کا اہم برآمدی شعبہ ہے، اسے بھی امریکی مارکیٹ تک بہتر رسائی ملنے کی امید ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ منیش تیوری نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بھارت کا ٹیرف اب صفر ہے۔ لیکن کیا یہ درست ہے کہ امریکی مصنوعات پر بھارت صفر ٹیرف لگائے گا، جبکہ بھارت کے برآمدات پر 18 فیصد ٹیرف لگے گا؟ یہ اہم سوالات ہیں، جن پر ہم واضح جواب چاہتے ہیں۔‘‘

کانگریس پارٹی نے کہا کہ تجارتی معاہدے میں کن نکات پر بات ہوئی اور کیا طے پایا، یہ جاننا ملک کا حق ہے۔ حکومت کو اس بارے میں مکمل معلومات ملک اور پارلیمنٹ کے سامنے رکھنی چاہئیں۔

بھارت کے امریکہ اور یورپی یونین دونوں کے ساتھ یہ تجارتی مذاکرات اس کی وسیع تر معاشی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد بدلتے ہوئے عالمی حالات میں مضبوط اقتصادی شراکت داری اور محفوظ سپلائی چینز کو فروغ دینا ہے۔

وزارت تجارت کے مطابق 16 ستمبر کو امریکی وفد نے بھارت کا دورہ کیا، جس کی قیادت برنڈن لنچ نے کی۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، خاص طور پر مجوزہ معاہدے پر مفصل بات چیت ہوئی۔

وزیرِاعظم مودی نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ بھارت آج دودھ، دال اور جوٹ کی پیداوار میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، جب کہ چاول، گندم، کپاس، پھل اور سبزیاں پیدا کرنے میں دوسرا مقام رکھتا ہے۔