Bharat Express DD Free Dish

Sergio Gor

شرومنی اکالی دل (امرتسر) کے قائم مقام صدر ایمان سنگھ مان نے کہا کہ وہ امریکی سفیر کے دورے کے دوران پنجاب، سکھ حقوق اور ہندوستان-پاکستان تعلقات سے متعلق مسائل ان کے سامنے اٹھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ دورہ سکھ برادری کے لیے اہم ہے۔

بھارت اور امریکہ دونوں اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی تجارت میں اضافے کے مقصد سے مرحلہ وار تجارتی نظام پر کام کر رہے ہیں، جبکہ ایک جامع دوطرفہ تجارتی معاہدے کی سمت میں بھی پیش رفت جاری ہے۔

بھارت اور امریکہ نے دہشت گردی، سرحدی سلامتی، منشیات کی اسمگلنگ اور مجرموں کے خلاف مشترکہ کارروائی پر تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ دفاعی شعبے میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ مشترکہ فوجی مشقیں، جدید دفاعی ٹیکنالوجی کا تبادلہ اور دفاعی خریداری کے مختلف معاہدوں نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو مزید فروغ دیا ہے۔

بھارت منڈپم میں امریکی آزادی کی 250 ویں سالگرہ کی شاندار تقریب میں موسیقی اور سفارت کاری کے ساتھ امریکہ-بھارت اسٹریٹجک شراکت داری مرکزِ نگاہ رہی — امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور خارجہ امور کی وزیر ڈاکٹر ایس جے شنکر نے ایک تاریخی شام کی میزبانی کی — صدر ڈونلڈ ٹرمپ براہِ راست رابطے میں شامل ہوئے جبکہ اے آر رحمان نے خصوصی مہمانوں کو مسحور کیا۔

یہ خصوصی تقریب امریکہ کی آزادی کے اعلان کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔ پروگرام کے دوران جب ڈونلڈ ٹرمپ بڑی اسکرین پر نمودار ہوئے تو انہوں نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ”سرجیو، تمہیں ہمارے ملک کی نمائندگی کرنی ہوگی، لیکن میں سب کو ہیلو کہنا چاہتا ہوں۔ مجھے وزیر اعظم بہت پسند ہیں۔ مودی عظیم ہیں، وہ میرے دوست ہیں“۔

امریکی خارجہ سکریٹری مارکو روبیو کے تاریخی بھارت دورے کے دوران بھارت منڈپم میں ’فریڈم 250‘ کا جشن، جہاں پالیسی سازوں سے لے کر سلیبریٹیز تک کی رونق ہوگی۔ بھارت ایکسپریس اردو کے ایڈیٹر ڈاکٹر خالد رضا خان بھی ہیں مدعو۔

ملاقات کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا خیر مقدم کر کے خوشی ہوئی۔ انہوں نے لکھا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان بھارت-امریکہ جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری میں مسلسل ترقی، علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے معاملات پر مثبت تبادلۂ خیال ہوا۔

قابل ذکر ہے کہ 27 مارچ کو نئی حکومت کے قیام کے بعد سرجیو گور نیپال کا دورہ کرنے والے اب تک کے اعلیٰ ترین امریکی سفارت کاروں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ ان کا یہ دورہ نہ صرف سفارتی سطح پر اہمیت رکھتا ہے بلکہ مستقبل میں امریکہ–نیپال تعلقات کو نئی سمت دینے کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔