اترپردیش جیسے اہم صوبہ میں سیاسی زمین تلاش کررہی کانگریس کوہفتہ کے روزبڑا جھٹکا لگا ہے۔ مغربی یوپی خطہ کے سابق صدراورسینئرلیڈرنسیم الدین صدیقی نے کانگریس پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے پارٹی صدرملیکا ارجن کھڑگے، سونیا گاندھی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی، جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی، یوپی کے انچارج اویناش پانڈے اورریاستی صدراجے رائے کواستعفیٰ بھیجا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اجے رائے انہیں منانے ان کے گھرجاسکتے ہیں۔ فی الحال یہ کانگریس کے لئے یوپی میں بڑا جھٹکا مانا جا رہا ہے۔
ہفتہ کے روزنسیم الدین صدیقی نے اپنا استعفیٰ پارٹی قیادت کوبھیجا۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ کانگریس صدرملیکا ارجن کھڑگے سمیت سبھی سینئرلیڈران کوبھیجا ہے۔ تاہم نسیم الدین صدیقی نے اپنا استعفیٰ کیوں دیا ہے، اس کی وجہ ابھی تک سامنے نہیں آسکی ہے۔ حالانکہ ان کے استعفیٰ سے کانگریس کارکنان میں مایوسی پیدا ہوئی ہے۔ ابتدائی جانکاری کے مطابق، ریاست کے سینئر لیڈران کو ان سے بات کرنے کے لئے بھیجا جا رہا ہے۔
نسیم الدین صدیقی نے بتائی یہ وجہ
ذرائع کے مطابق، استعفیٰ کی واضح وجہ نسیم الدین صدیقی نے خط میں نہیں لکھا ہے، لیکن اپنے حامیوں کے ساتھ ہی انہوں نے کانگریس سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ جبکہ بتایا جا رہا ہے کہ وہ ہائی کمان سے ناراض تھے اورگزشتہ کافی وقت سے پارٹی میں سائیڈ لائن چل رہے تھے۔ یہی ان کے استعفیٰ کی وجہ بنی ہے۔ نسیم الدین صدیقی نے پارٹی قیادت کواپنا استعفیٰ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ کچھ عرصے سے پارٹی کے کام کرنے کے اندازاوراندرونی صورتحال سے بے چینی محسوس کررہے تھے۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ وہ اس بات سے ناخوش تھے کہ تنظیم (سنگٹھن) میں ان کے کرداراورمشوروں پرمناسب غورنہیں کیا جا رہا تھا، جس کی وجہ سے وہ ناراض چل رہے تھے۔ حالانکہ انہوں نے عوامی طورپرکسی مخصوص فرد پربراہ راست الزام لگانے سے گریزکیا ہے۔
منانے جاسکتے ہیں اجے رائے!
یوپی پردیش صدر اجے رائے مستعفی نسیم الدین صدیقی سے بات کرنے اوراستعفیٰ واپس لینے کے لئے ان کی رہائش گاہ جاسکتے ہیں۔ اجے رائے اس سے پہلے بھی کئی لیڈران کے گھرانہیں منانے پہنچ چکے ہیں۔ اترپردیش جیسی ریاست میں نسیم الدین صدیقی جیسے لیڈر کا جانا پارٹی کے لئے بڑا نقصان ہے۔ کیونکہ یہاں اقلیتی طبقہ کا ووٹ کافی اہمیت کا حامل ہے۔ بندیل کھنڈ کے ساتھ ہی نسیم الدین صدیقی کی مغربی یوپی میں بھی کافی اچھی پکڑہے۔ ایک سال بعد ہونے والے اسمبلی الیکشن سے پہلے پارٹی کے لئے یہ بڑا جھٹکا مانا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




