Bharat Express DD Free Dish

UP Congress

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی ہیں اور کانگریس لیجسلیچر پارٹی کی لیڈر بھی رہ چکی ہیں۔ وہ کانگریس کے سینئر لیڈر پرمود تیواری کی بیٹی ہیں۔ دوسری جانب عمران مسعود سہارنپور سے لوک سبھا رکن پارلیمنٹ ہیں اور اس سے قبل اتر پردیش کانگریس میں نائب صدر کی ذمہ داری بھی سنبھال چکے ہیں۔

کانگریس پارٹی نے اپنے تنظیمی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ راجندرپال گوتم کواترپردیش اورسنجے دت کوہریانہ کے لئے اے آئی سی سی کا نیا انچارج مقررکیا گیا ہے۔ ہری پرساد اب کرناٹک کانگریس کے سربراہ ہوں گے، جبکہ لال جی دیسائی اڈیشہ کے نئے انچارج بن گئے ہیں۔ کانگریس سیوا دل کی قیادت بی وی سرینواس کریں گے۔

یوپی کے سابق وزیراور کانگریس کے سینئر لیڈر نسیم الدین صدیقی نے اپنا استعفیٰ پارٹی قیادت کو بھیج دیا ہے۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ کانگریس صدرملیکا ارجن کھڑگے، سونیا گاندھی، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی کو بھیجا ہے۔

اجے رائے نے کہا کہ کانگریس ہمیشہ مسلمانوں کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور انہیں عزت دی ہے۔ لیکن، بی جے پی نے ہمیشہ مسلمانوں کی توہین کی ہے۔ بی جے پی بتائے کہ اس نے مسلمانوں کو کون سا عہدہ دیا۔ وہ صرف نفرت کی سیاست کرنا جانتے ہیں۔

جموں و کشمیر میں دہشت گردی سے متعلق مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے بیان پر کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ آرٹیکل 370 ہٹائے جانے سے مجھے لگتا ہے کہ دہشت گردی کم نہیں ہوئی بلکہ بڑھی ہے۔ اب ادھم پور میں واقعات ہونے لگے ہیں۔ امت شاہ سے چیزیں سنبھل  نہیں رہی ہیں، ان کے ہاتھ سے چیزیں باہر ہو چکی  ہیں۔

یوپی کانگریس کی تمام کمیٹیاں تحلیل ہونے کے بعد اب کانگریس تنظیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔ لوک سبھا انتخابات کے دوران جو عہدیدار غیر فعال رہے انہیں باہر کا راستہ دکھایا جائے گا۔

بہار اور جھارکھنڈ کے بعد کانگریس نے ریاستی صدر کی ذمہ داری اجے رائے کو دی ہے جو یوپی میں بھومیہار ذات سے آتے ہیں۔ بہار کانگریس کے صدر اکھلیش پرساد سنگھ ہیں اور جھارکھنڈ کانگریس کے صدر متھلیش ٹھاکر ہیں

سال 2009 میں اجے رائے مبینہ طور پر وارانسی سے لوک سبھا الیکشن لڑنا چاہتے تھے۔ تاہم بی جے پی نے پارٹی کے سینئر لیڈر مرلی منوہر جوشی کو ٹکٹ دیا، جس کے بعد انہوں نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا اور جوشی کے خلاف سماج وادی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا

والدین کے خواب چکنا چور ہو گئے۔ اسی لیے پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ 31 مارچ تک راہل جی کا پیغام لے کر گاؤں، ضلع، ریاستی سطح پر جائیں گے، ریاست بھر میں جلسہ کریں گے اور لوگوں کو ان کے حقوق دلائیں گے۔