Bharat Express DD Free Dish

Saudi Umrah bus accident: سعودی عرب بس حادثے میں ایک ہی خاندان کے 18 افراد جاں بحق، ایک حادثے میں تین نسلیں ختم

محمد آصف نے کہا، میری بھابھی، دیور، ان کا بیٹا، تین بیٹیاں اور ان کے بچے عمرہ کے لیے گئے تھے۔ وہ آٹھ دن پہلے نکلے تھے۔ عمرہ مکمل ہو چکا تھا اور وہ مدینہ واپس آ رہے تھے۔ رات تقریباً ڈیڑھ بجے یہ حادثہ پیش آیا۔

سعودی عرب کے مدینہ میں پیر 17 نومبر کو ایک سڑک حادثے میں 42 ہندوستانی عازمینِ عمرہ جاں بحق ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق ان میں ایک ہی خاندان کے 18 افراد بھی شامل تھے جن میں نو بچے بھی تھے۔ حیدرآباد میں رہنے والا یہ خاندان ہفتہ کے روز واپس لوٹنے والا تھا۔ خاندان کے رشتہ دار محمد آصف نے بتایا، میری بھابھی، دیور، ان کا بیٹا، تین بیٹیاں اور ان کے بچے عمرہ کے لیے گئے تھے۔ وہ آٹھ دن پہلے روانہ ہوئے تھے۔ عمرہ مکمل ہو چکا تھا اور وہ مدینہ واپس آ رہے تھے۔ رات تقریباً ڈیڑھ بجے یہ حادثہ پیش آیا اور بس آگ میں جل کر راکھ ہو گئی۔ انہیں ہفتہ کو واپس آنا تھا۔

’یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا المیہ‘

آصف نے بتایا کہ اس سانحے سے قبل وہ اپنے رشتہ داروں کے مسلسل رابطے میں تھے۔ انہوں نے کہا، ایک ہی خاندان کے 18 افراد — نو بڑے اور نو بچے — جاں بحق ہوئے ہیں۔ یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ آصف نے اپنے کچھ رشتہ داروں کی شناخت نصیرالدین (70)، ان کی اہلیہ اختر بیگم (62)، بیٹے سلاﺅالدین (42)، بیٹیوں امینہ (44)، رضوانہ (38) اور شبانہ (40) اور ان کے بچوں کے طور پر کی۔آصف نے کہا، ہم اس بات کی منصفانہ تحقیق کا مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ حادثہ کیسے ہوا۔ ذمہ داروں کو جلد از جلد سزا ملنی چاہیے۔جیسے ہی متوفی نصیرالدین کی بہن ان کے رام نگر واقع گھر میں داخل ہوئیں، وہ زور زور سے روتے ہوئے چیخنے لگیں، میرے بھائی کا پورا خاندان ختم ہو گیا۔ کل تک یہ ان کے بھائی کا گھر تھا۔ اس خاندان کا ایک فرد امریکہ میں رہتا ہے۔

صدمے میں ہے گھر لوٹا خاندان

حادثے کا شکار ہونے والی بس میں سوار اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حیدرآباد کے کئی لوگوں کو حادثے کی جگہ سے دل دہلا دینے والی تصاویر موصول ہوئی ہیں۔ محمد سلمان، جن کے خاندان کے چھ افراد اس بس میں تھے، نے بتایا کہ ان کی آخری بات چیت سے پتا چلا کہ وہ مدینہ سے تقریباً دو گھنٹے کے فاصلے پر تھے، اس کے بعد اچانک رابطہ منقطع ہو گیا۔ایک اور رہائشی محمد بروہان نے بتایا، شعیب کھڑکی توڑ کر باہر نکلنے میں کامیاب ہوا۔ اگر وہ نہیں کودتا تو وہ بھی پھنس جاتا۔

میتوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ

حیدرآباد پولیس کمشنر وی سی سجنار کی ابتدائی معلومات کے مطابق کم از کم 45 بھارتی، جن میں زیادہ تر حیدرآباد کے تھے، جاں بحق ہو گئے ہیں۔ سعودی حکام نے ابھی تک ہلاکتوں کی سرکاری تعداد جاری نہیں کی ہے کیونکہ شدید جلنے کی وجہ سے شناخت کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ جبکہ تلنگانہ حج کمیٹی کے مطابق مرنے والوں میں 10 بچے بھی شامل ہیں۔ جوائنٹ پولیس کمشنر تفسیر اقبال نے بتایا کہ 43 متاثرین حیدرآباد کے، دو سائبرآباد کے اور ایک کرناٹک کے ہبلی سے تعلق رکھتا تھا۔ بس میں 18 مرد، 18 خواتین اور 10 بچے سوار تھے۔یاد رہے کہ سعودی عرب میں عمرہ زائرین سے بھری ایک بس کے المناک حادثے میں اب تک 45 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق حیدرآباد سے تھا۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب 54 افراد کا قافلہ عمرہ ادا کرنے کے بعد مدینہ واپس لوٹ رہا تھا۔ رات تقریباً ڈیڑھ بجے بس مدینہ سے 30 کلومیٹر دور ایک ڈیزل ٹینکر سے ٹکرا گئی، جس کے فوراً بعد بس میں آگ بھڑک اٹھی۔ زیادہ تر مسافر سو رہے تھے، جس کے باعث وہ بروقت خود کو نہیں بچا سکے۔

رات کو سوتے وقت پیش آنے والا حادثہ

یہ قافلہ 9 نومبر کو حیدرآباد سے جدہ روانہ ہوا تھا اور 23 نومبر کو واپسی متوقع تھی۔ 46 افراد بس میں سوار تھے جبکہ 4 الگ گاڑیوں میں گئے اور 4 لوگ مکہ میں ہی رک گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں 18 مرد، 18 خواتین اور 10 بچے شامل تھے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read