سنبھل ایک مرتبہ پھر سرخیوں میں ہے۔ شاہی جامع مسجد اور ہری ہر مندر سے جڑے تنازع کے درمیان اب انتظامیہ نے ایک بڑا قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ 30 دسمبر کو متنازع مقام کے نزدیک واقع قبرستان کی زمین کی پیمائش کی جائے گی۔دراصل یہ پورا معاملہ قبرستان کی زمین پر مبینہ غیر قانونی قبضوں سے جڑا ہوا ہے۔ الزام ہے کہ کئی افراد نے قبرستان کی زمین پر قبضہ کر کے وہاں پکے مکانات اور دکانیں تعمیر کر لی ہیں۔ انتظامیہ اب یہ جانچنا چاہتی ہے کہ سرکاری ریکارڈ میں کتنی زمین درج ہے اور کتنے حصے پر ناجائز قبضہ کیا گیا ہے۔ پیمائش کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا مخالفت سے بچنے کے لیے سنبھل کوتوالی میں ایک اہم میٹنگ بلائی گئی۔ اس میٹنگ میں ایس ڈی ایم اور سی او آلوک بھاٹی نے اُن تمام افراد سے براہِ راست بات چیت کی جن کے مکانات یا دکانیں پیمائش کی زد میں آ سکتی ہیں۔ افسران نے دو ٹوک انداز میں واضح کر دیا کہ 30 دسمبر کو ٹیم موقع پر پہنچے گی اورپیمائش کا کام ہر صورت مکمل کیا جائے گا۔
گزشتہ واقعہ سے سبق
سنبھل کے لوگ ابھی تک 24 نومبر 2024 کے اُس سیاہ دن کو نہیں بھولے ہیں، جب شہر میں ناخوشگوار حالات پیدا ہو گئے تھے۔ اس دوران پیش آنے والے واقعات نے پورے ملک کی توجہ سنبھل کی طرف مبذول کرا دی تھی۔ انتظامیہ اب وہی غلطی دوبارہ نہیں دہرانا چاہتی۔ اسی لیے پیمائش سے تین دن پہلے ہی لوگوں کو بلا کر تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے، تاکہ موقع پر کوئی بھی شخص ’’معلومات نہ ہونے‘‘ کا بہانہ نہ بنا سکے اور نہ ہی کسی اشتعال میں آئے۔
امن برقرار رکھنے کی اپیل
سی او آلوک بھاٹی نے میٹنگ میں لوگوں کو یقین دلایا کہ یہ ایک معمول کی انتظامی کارروائی ہے، لیکن ساتھ ہی خبردار بھی کیا کہ اگر کسی نے قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو پولیس سختی سے نمٹے گی۔ مقامی لوگوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں اور انتظامیہ کا بھرپور تعاون کریں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


