Bharat Express DD Free Dish

Sajjan Kumar Verdict on 1984 Sikh Riots Case: سکھ مخالف فسادات معاملے میں کانگریس لیڈر سجن کمار کو عمر قید، سابق رکن پارلیمنٹ نے کہی یہ بڑی بات

سکھ مخالف فسادات سے متعلق ایک معاملے میں راؤزایوینیو کورٹ نے منگل (25 فروری) کوسزا کا اعلان کیا۔ عدالت نے کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ سجن کمارکو عمرقید کی سزا سنائی۔

سکھ مخالف فسادات 1984میں عمرقید کی سزا کاٹ رہے سجن کمار کا انتقال ہوگیا ہے۔ (فائل فوٹو)

Sajjan Kumar Verdict: سکھ مخالف فسادات 1984 معاملے میں کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ سجن کمار کو راؤز ایوینیو کورٹ نے عمرقید کی سزا سنائی ہے۔ سجن کماردہلی کینٹ معاملے میں پہلے سے ہی عمرقید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ انہیں یکم نومبر 1984 کو دہلی کے سرسوتی وہار علاقے میں دو سکھوں جسونت اور ان کے بیٹے ترون دیپ سنگھ کا بے رحمانہ طریقے سے قتل کے معاملے میں آج عدالت نے سزا سنائی۔

دہلی پولیس اور متاثرہ نے اس معاملے کو نایاب سے نایاب کے زمرے میں مانتے ہوئے سجن کمار کے خلاف پھانسی کی سزا کا مطالبہ کیا تھا۔ حالانکہ عدالت نے عمرقید کی سزا سنائی ہے۔

سجن کمار نے رعایت دینے کی اپیل کی

فیصلے سے ٹھیک پہلے سجن کمار نے سزا میں رعایت دینے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے دلیلوں میں کہا کہ اس معاملے میں مجھے پھانسی کی سزا دینے کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے۔ سجن کمار نے کہا کہ میں 80 سال کا ہوگیا ہوں۔ بڑھتی عمرکے ساتھ کئی بیماریوں سے پریشان رہا ہوں۔ 2018 سے جیل میں بند ہوں۔ اس کے بعد سے مجھے کوئی پیرول نہیں ملی ہے۔

کسی مجرمانہ معاملے میں شامل نہیں رہا: سجن کمار

انہوں نے کہا، ”1984 کے فسادات کے بعد کسی مجرمانہ معاملے میں شامل نہیں رہا۔ جیل میں/ٹرائل کے دوران میرا برتاؤ ہمیشہ ٹھیک رہا۔ کوئی شکایت میرے خلاف نہیں ملی۔ اس لئے میرے سدھار کے امکان سے انکارنہیں کیا جاسکتا۔” سجن کمارنے کہا کہ تین بار رکن پارلیمنٹ رہ چکا ہوں۔ سماجی فلاح وبہبود کے لئے کئی پروجیکٹ (منصوبے) کا حصہ رہا ہوں۔ ابھی بھی خود کو بے قصور مانتا ہوں۔ عدالت اس معاملے میں اس کے لئے انسانی پہلو کو دھیان میں رکھتے ہوئے کم ازکم سزا مقرر کرے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read