Bharat Express DD Free Dish

1984 Sikh Riots

سجن کمارگزشتہ 7 برس سے دہلی کی تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق انہیں صفدرجنگ اسپتال لایا گیا، لیکن اس وقت تک ان کی موت ہوچکی تھی۔ اپریل 2026 میں سجن کمارنے اپنی بیمار اہلیہ سے ملاقات کے لیے سپریم کورٹ سے ضمانت کی درخواست کی تھی، تاہم عدالت نے انہیں ضمانت دینے سے انکار کردیا تھا۔

ناناوتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 1984 کے فسادات کے سلسلے میں دہلی میں پانچ سو ستاسی ایف آئی آر درج کی گئی تھیں، جن میں دو ہزار سات سو تیتیس افراد کی جان گئی۔ ان میں سے کئی مقدمات شواہد کی کمی کے باعث بند ہوئے جب کہ بڑی تعداد میں ملزمان کو بری کر دیا گیا۔

طالب علم نے راہل گاندھی سے پوچھا، "آپ نے کہا کہ سیاست کو بے خوف ہونا چاہیے، ڈرنے کی کوئی بات نہیں، لیکن ہم صرف کڑا نہیں پہننا چاہتے، ہم صرف پگڑی نہیں باندھنا چاہتے، ہم اظہار کی آزادی چاہتے ہیں،

سکھ مخالف فسادات سے متعلق ایک معاملے میں راؤزایوینیو کورٹ نے منگل (25 فروری) کوسزا کا اعلان کیا۔ عدالت نے کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ سجن کمارکو عمرقید کی سزا سنائی۔

1984 سکھ مخالف فسادات کے دوران سرسوتی وہارمیں جسونت سنگھ اوران کے بیٹے ترون دیپ سنگھ کا قتل ہوا تھا۔ اس معاملے میں سجن کمارملزم بنائے گئے۔ اب عدالت نے انہیں قصوروارٹھہرایا ہے۔

اڈیشہ سے بی جے پی کی خاتون رکن پارلیمنٹ اپراجیتا سارنگی کی طرف سے پرینکا گاندھی کو جو بیگ دیا گیا ہے  اس پر 1984 لکھا ہے۔ بیگ پر سال 1984 کو خون میں رنگا ہوا دکھایا گیا ہے ،جو 1984 کے سکھ فسادات کی یاد دلارہا ہے۔

راؤز ایونیو کی عدالت 1984 کے سکھ مخالف فسادات سے متعلق پل بنگش کیس کی اگلی سماعت 2 دسمبر کو کرے گی۔ استغاثہ کی گواہ منموہن کور کو عدالتی سمن موصول ہوئے تھے جس کی وجہ سے وہ عدالت میں حاضر نہیں ہو سکیں۔