Rajya Sabha Election 2026: مہاراشٹر، اڈیشہ، تمل ناڈو، مغربی بنگال، آسام، بہار، چھتیس گڑھ، ہریانہ، ہماچل پردیش اورتلنگانہ سمیت 10 ریاستوں کی 37 راجیہ سبھا سیٹوں کے لئے دوسالہ الیکشن آج ہوگا۔ آج ہی کے دن راجیہ سبھا الیکشن کی ووٹنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی بھی کرلی جائے گی۔ اپریل میں مدت کارختم ہونے کی وجہ سے ہورہے الیکشن سے بی جے پی کی قیادت والے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کو ایوان بالا میں اپنے 130 سے زیادہ سیٹوں (نامزد اراکین سمیت) کے اکثریت کو مضبوط کرنے کا موقع ملے گا، جبکہ اپوزیشن انڈیا بلاک کو اپنے اہم گڑھ مانے جانے والی ریاستوں میں کئی سیٹیں چھن جانے کا خطرہ ہے۔
ہردوسال میں الیکشن
ایک طرف جہاں لوک سبھا کی مدت 5 سال کی ہوتی ہے اور اسے تحلیل بھی کیا جاسکتا ہے جبکہ راجیہ سبھا ایک مستقل ایوان ہے، لہٰذا یہ کبھی کام کرنا بند نہیں کرتا ہے۔ راجیہ سبھا کے ہرایک رکن کی مدت 6 سال کی ہوتی ہے، لیکن سبھی اراکین کی مدت ایک ہی وقت پرشروع یا ختم نہیں ہوتی ہے۔ اس کے بجائے ہردوسال میں ایک تہائی اراکین ریٹائرہوتے ہیں۔ ان کی مدت کار ختم ہونے پران سیٹوں کو بھرنے کے لئے الیکشن ہوتے ہیں۔ یہ طریقہ کاریقینی بناتا ہے کہ ایوان میں ہمیشہ تجربہ کار اراکین رہیں اوراس کا کام کاج بہتر طریقے سے چلتا رہے۔
کن ریاستوں میں کون سی پارٹی مضبوط
واضح رہے کہ یہ راجیہ سبھا الیکشن سیاسی نقطہ نظرسے بہت اہم ہے، کیونکہ مختلف ریاستوں میں قانون سازاسمبلی کے اعدادوشمارمختلف ہوتے ہیں۔ مہاراشٹرمیں بی جے پی اوراس کے اتحادیوں کا اثرورسوخ ہے، جبکہ تمل ناڈومیں ڈی ایم کے کی قیادت والا اتحاد مضبوط ہے۔ دریں اثنا، مغربی بنگال میں، ممتا بنرجی کی پارٹی ٹی ایم سی کوقانون سازاسمبلی میں اکثریت حاصل ہے، اس لئے انہیں وہاں برتری حاصل ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ بہارمیں این ڈی اے اورگرینڈ الائنس کے درمیان مقابلہ قریب سے دیکھا جائے گا۔ بہارمیں افطارپارٹی کے بعد اے آئی ایم آئی ایم نے آرجے ڈی امیدوارکی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے ریاستی صدراوررکن اسمبلی اخترالایمان نے یہ اعلان کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




