Kanwar Lal Meena Legislation Cancelled: راجستھان میں بی جے پی کے رکن اسمبلی کنورلال مینا کی رکنیت منسوخ کردی گئی ہے۔ باراں ضلع کی انتا سیٹ سے رکن اسمبلی رہے کنورلال مینا نے 20 سال پرانے معاملے میں دو دن پہلے ہی ٹرائل کورٹ میں سرینڈر کیا تھا۔ انہیں عدالت نے تین سال کی سزا سنائی ہے۔ سپریم کورٹ سے بھی راحت نہ ملنے کے بعد ٹرائل کورٹ نے انہیں 21 مئی تک سرینڈر کرنے کا حکم دیا تھا۔
اب سزایافتہ کنورلال مینا کی اسمبلی کی رکنیت منسوخ کردی گئی ہے۔ اس کا کریڈٹ کانگریس لے رہی ہے۔ راجستھان کانگریس کے صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا نے ‘ایکس’ پرلکھا، “کانگریس کے زبردست دباؤاوراپوزیشن لیڈرٹیکا رام کے ذریعہ سپریم کورٹ میں توہین عدالت (کنٹمپٹ آف کورٹ) کی عرضی پیش کرنے کے بعد آخرکار بی جے پی کے سزا یافتہ رکن اسمبلی کنورلال مینا کی رکنیت منسوخ کرنی پڑی۔ جمہوری نظام میں آئین سب سے بالاتر ہے۔”
23 دن بعد کنورلال کی رکنیت منسوخ
گووند ڈوٹا سرا نے مزید لکھا، “کانگریس یہ بات باربارآرایس ایس-بی جے پی کے لیڈران کوبتاتی رہے گی اورانہیں مجبورکرے گی۔ وہ آئین کے مطابق کام کریں۔ قانون کے مطابق، بی جے پی رکن اسمبلی کنورلال مینا کوعدالت سے تین سال کی سزا ہوتے ہی ان کی رکنیت منسوخ کر دی جانی چاہئے تھی، لیکن عدالت کے حکم کے 23 دن بعد بھی بی جے پی کے سزا یافتہ رکن اسمبلی کی رکنیت اسپیکرکے ذریعہ منسوخ نہیں کی گئی۔”
بی جے پی حکومت پرلگایا تعصب کا الزام
راجستھان کانگریس صدرنے الزام لگایا کہ اپوزیشن کے ذریعہ میمورنڈم سونپنے اور وارننگ دینے کے بعد بھی اسمبلی اسپیکرسزا یافتہ رکن اسمبلی کوبچاتے رہے۔ اس دوران انہوں نے ایک مجرم کو بچانے کے لئے نہ صرف متعصبانہ رویہ اپنایا بلکہ آئینی التزامات اورعدالت کے حکم کی خلاف ورزی کی۔ گووند سنگھ ڈوٹا سرا ن مزید کہا، “آخرکار: جیت حقیقت کی ہوئی اور کنورلال مینا کی رکنیت منسوخ کرنی پڑی۔ کیونکہ ملک میں قانون اورآئین پرعمل کرانے کے لئے کانگریس کی فوج موجود ہے۔ ایک ملک میں دو قانون نہیں ہوسکتے۔”
کیا ہے 20 سال پرانا معاملہ؟
دراصل، یہ معاملہ سال 2005 کا ہے۔ دانگی پورہ-راج گڑھ موڑ پرنائب سرپنچ الیکشن کے بعد دوبارہ ووٹنگ کرانے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ گاؤں والوں نے راستہ روک رکھا تھا۔ شکایت ملتے ہی اس وقت کے ایس ڈی ایم رام نواس مہتا سمیت دیگرافسران وہاں پہنچے۔ الزام تھا کہ اس دوران کنورلال مینا نے ایس ڈی ایم کی کنپٹی پرپستول تان دی تھی اورجان سے مارنے کی دھمکی دی تھی۔ اس معاملے میں عدالت نے انہیں سزا سنائی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
