Bharat Express DD Free Dish

Rajasthan Politics

بی جے پی کے دونوں امیدواروں کو محض ایک ایک ووٹ ملنا مقامی سیاست میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ راجستھان میں بی جے پی کی حکومت ہے، اس کے باوجود ان دونوں امیدواروں کو اپنے اپنے وارڈ میں انتہائی کم حمایت حاصل ہوئی۔

راجستھان اسمبلی کا مانسون اجلاس 20 اگست سے شروع ہونے جا رہا ہے۔ اجلاس کی تیاریوں کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما اس وقت نئی دہلی کے دورے پر ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دونوں رہنماؤں کی ملاقات کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے اس کی اطلاع دی ہے۔

پرمود کرشنم نے دعویٰ کیا کہ جب تک راہل گاندھی اور ان کی قریبی ٹیم پارٹی کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی رہے گی، کانگریس کی حالت بہتر نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ راجستھان، پنجاب اور اتر پردیش سمیت کئی ریاستوں میں پارٹی کا اثر مسلسل کم ہو رہا ہے اور اس کی بنیادی وجہ اندرونی قیادت کا بحران ہے۔

راجستھان میں بی جے پی رکن اسمبلی کنورلال مینا کی رکنیت 20 سال پرانے معاملے میں سزا ملنے کے بعد منسوخ کردی گئی ہے۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ ان کے دباؤ کے سبب یہ کارروائی ہوئی۔

اشوک گہلوت نے ٹویٹ کیا ہے کہ اسمبلی انتخابات کے نتائج کے 8 دن گزر جانے کے بعد بھی بی جے پی اپنا وزیر اعلیٰ منتخب نہیں کر پائی ہے۔

اشوک گہلوت کے اس جادو کا کافی عرصے سے ہر طرف چرچا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے اور سچن پائلٹ کے درمیان بہت پیار ہے لیکن پھر ان کے فیصلوں سے بہت کچھ سامنے آتا ہے۔ سچن پائلٹ 2018 کے انتخابات میں پارٹی کے ریاستی صدر تھے۔

اسی دوران راجندر گڈھا کو اپنی حکومت پر تنقید کرنا مشکل پڑ گیا۔ وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے انہیں وزیر کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔ تاہم برطرف کیے جانے کے بعد بھی راجیندر گڈھا نے کہا کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہیں۔

پائلٹ اس وقت راجستھان کانگریس کے صدر تھے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب سی ایم بنانے پر بحث ہوئی تو پارٹی قیادت نے یہ ذمہ داری اشوک گہلوت کو سونپی۔ اس کے بعد سے راجستھان کانگریس میں مسلسل اقتدار کی لڑائی جاری ہے۔

تین سال پہلے راجستھان میں بی جے پی کے آپریشن لوٹس کو ناکام کرنے سے پہلے بھی دوسری ریاستوں میں کانگریس کی حکومتیں بچانے میں گہلوت کانگریس میں چانکیہ کا کردار نبھاتے ہوئے نظرآئے ہیں۔

راجستھان میں کانگریس انتخابی سال میں سچن پائلٹ اور اشوک گہلوت کے درمیان تنازعہ سے کانگریس کا اعلیٰ کمان تنگ آگیا ہے، جس کے بعد آئندہ دنوں میں وہ سخت فیصلے لے سکتا ہے۔