Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi Citizenship Dispute Case: راہل گاندھی کی شہریت کوچیلنج دینے والی عرضی خارج، اس شرط پر ہائی کورٹ نے کیا نمٹارہ

الہ آباد ہائی کورٹ نے راہل گاندھی کی شہریت تنازعہ سے متعلق عرضی خارج کردی گئی ہے۔ عدالت نے عرضی گزارکو نظر ثانی کی اپیل کرنے کی اجازت دی ہے۔

Rahul Gandhi Citizenship Dispute Case Rejected: کانگریس کے سینئر لیڈرراہل گاندھی کی شہریت تنازعہ معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ میں داخل کی گئی عرضی خارج ہوگئی ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ نے عرضی گزار کو نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور نئی عرضی کو واپس لینے کی بنیاد پرخارج کردیا ہے۔ دراصل، 5 مئی کوہی اسی تنازعہ پرعرضی گزارکی ایک عرضی کوہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے خارج کردیا تھا۔ نئی پٹیشن دائرکرتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ کچھ نئے شواہد بھی پیش کئے گئے۔ مطالبہ کیا گیا کہ اس عرضی پرفیصلہ آنے تک راہل گاندھی کے بیرون ملک سفرپرپابندی عائد کی جائے۔

یہ عرضی کرناٹک کے ایس وگنیش ششر نے داخل کی تھی۔ حالانکہ عدالت نے کہا کہ عرضی گزارکے پاس خارج عرضی میں نظرثانی کی اپیل داخل کرنے کا متبادل موجود ہے۔ عرضی گزارایس وگنیش ششرنے راہل گاندھی کی شہریت پرسوال اٹھائے تھے اوراس معاملے میں مرکزی تفتیشی بیورو(سی بی آئی) سے جانچ کا مطالبہ کیا تھا۔ عرضی میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کے پاس برطانیہ (انگلینڈ) کی شہریت ہے۔

عرضی گزار نے راہل گاندھی پر لگائے تھے یہ الزام

عرضی گزار کا الزام تھا کہ ان کے پاس ایسے ثبوت موجود ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ راہل گاندھی برطانوی شہریت رکھتے ہیں۔ عرضی گزارنے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ راہل گاندھی کی دوہری شہریت کے بارے میں انہوں نے مجازاتھارٹی سے دو بارشکایت کی تھی، لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

دہلی ہائی کورٹ میں بھی داخل ہوئی تھی عرضی

بی جے پی لیڈرسبرامنیم سوامی نے بھی دہلی ہائی کورٹ میں راہل گاندھی کی شہریت سے متعلق ایسی ہی عرضی داخل کی تھی۔ حالانکہ عدالت نے کہا تھا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کی بینچ کے سامنے داخل درخواستوں پروضاحت حاصل کرنے کے بعد کیس کی سماعت کرے گی۔ قابل ذکرہے کہ ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 9 کے مطابق کوئی بھی شخص ہندوستان اوردوسرے ملک کی شہریت بیک وقت نہیں رکھ سکتا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read