Bharat Express DD Free Dish

Raghav Chadha’s message to AAP: ’’خاموش کروایا گیا ہے، ہارا نہیں ہوں…‘‘، عام آدمی پارٹی کے نام راگھو چڈھا کا پیغام، لگائے سنگین الزامات

راگھو چڈھا نے الزام لگایا کہ اب ان کی اپنی پارٹی ہی انہیں ان مدعے کو اٹھانے سے روک رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ عام آدمی کے نام پر سیاست کرنے والی پارٹی کیوں عوام کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

راجیہ سبھا رکن راگھو چڈھا۔

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے راجیہ سبھا رکن راگھو چڈھا نے سوشل میڈیا پر ایک بڑا بیان دیتے ہوئے اپنی ہی پارٹی پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ حال ہی میں پارٹی کی جانب سے انہیں راجیہ سبھا میں نائب لیڈر (ڈپٹی لیڈر) کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد ان کا یہ بیان کافی اہم مانا جا رہا ہے۔ راگھو چڈھا پنجاب سے راجیہ سبھا کے رکن ہیں اور ان کی مدتِ کار 2022 سے 2028 تک ہے۔

خاموش کروایا گیا ہوں، ہارا نہیں ہوں
اپنے پیغام میں راگھو چڈھا نے کہا، ’’خاموش کروایا گیا ہوں، ہارا نہیں ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان کی آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن وہ عام آدمی کے مدعے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔

عوامی مدعے اٹھانے کا دعویٰ
سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے ایک ویڈیو میں چڈھا نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ پارلیمنٹ میں عوامی مدعے کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایئرپورٹ پر مہنگے کھانے کا مدعا ہو یا آن لائن فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارمز جیسے سویگی اور زماٹو کے ڈیلیوری ملازمین کے مدعے — انہوں نے ان تمام موضوعات کو سنجیدگی سے اٹھایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بینکنگ سیکٹر میں درپیش مشکلات اور ٹول پلازہ پر عام لوگوں کو ہونے والی پریشانیوں کو بھی انہوں نے پارلیمنٹ میں بار بار اٹھایا۔

چڈھا کا پارٹی پر آواز دبانے کا الزام
راگھو چڈھا نے الزام لگایا کہ اب ان کی اپنی پارٹی ہی انہیں ان مدعے کو اٹھانے سے روک رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ عام آدمی کے نام پر سیاست کرنے والی پارٹی کیوں عوام کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پارٹی کی جانب سے پارلیمنٹ میں ہدایات دی گئی ہیں کہ انہیں سوال اٹھانے کا موقع نہ دیا جائے اور بولنے سے روکا جائے۔

سیاسی حلقوں میں ہلچل
اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ پارٹی کے اندر یہ معاملہ داخلی اختلافات کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ حالانکہ، اس معاملے پر پارٹی قیادت کی جانب سے ابھی تک کوئی دفتری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read