Bharat Express DD Free Dish

2026 کا سوال: علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ یونین کے انتخابات کب ہوں گے؟ خاموش کیمپس، ادھوری روایت اور قیادت سازی کا رکا ہوا سفر

اے ایم یو کی طلبہ یونین محض ایک نمائندہ ادارہ نہیں تھی، بلکہ یہ قیادت سازی کی تجربہ گاہ تھی۔ یہاں منتخب ہونے والا صدر صرف ایک عہدہ دار نہیں بلکہ ایک ابھرتا ہوا رہنما سمجھا جاتا تھا۔

تحریر: خالد مصطفیٰ(علیگ )

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا نام آتے ہی ذہن میں صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک تحریک، ایک تاریخ اور ایک فکری روایت ابھرتی ہے۔ یہ وہ درسگاہ ہے جہاں سے فکر نے پرواز کی، قیادت نے جنم لیا اور نوجوانوں نے قوم کی رہنمائی کی۔ مگر 2026 میں کھڑے ہو کر ایک سوال دل کو بے چین کر دیتا ہے: آخر Aligarh Muslim University Students’ Union کے انتخابات کب ہوں گے؟

کئی برس گزر چکے ہیں۔ کیمپس میں نئی نسل آ چکی ہے۔ پرانے طلبہ فارغ التحصیل ہو گئے۔ مگر یونین کے انتخابات کا پہیہ وہیں رکا ہوا ہے۔

ایک سنہری روایت جس نے تاریخ بنائی

اے ایم یو کی طلبہ یونین محض ایک نمائندہ ادارہ نہیں تھی، بلکہ یہ قیادت سازی کی تجربہ گاہ تھی۔ یہاں منتخب ہونے والا صدر صرف ایک عہدہ دار نہیں بلکہ ایک ابھرتا ہوا رہنما سمجھا جاتا تھا۔

اسی پلیٹ فارم سے کئی شخصیات نے قومی سطح پر اپنی شناخت قائم کی:

 خلیقززمہ چودھری

جنہوں نے تحریکِ آزادی اور بعد ازاں برصغیر کی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا۔

عارف محمّد خان جو بعد میں کیرالہ کے گورنر بنے اور قومی مباحث میں مضبوط آواز کے طور پر سامنے آئے۔

محمّد ادیب جو پارلیمنٹ تک پہنچے اور قومی سیاست میں سرگرم کردار ادا کیا۔

یہ صرف نام نہیں، یہ اس بات کی دلیل ہیں کہ طلبہ یونین قیادت کا پہلا زینہ ثابت ہوتی ہے۔ یہاں سے جیتنے والے طلبہ کی زندگی کا رخ بدل جاتا ہے۔ انہیں اعتماد ملتا ہے، عوامی رابطے کا تجربہ ملتا ہے، فیصلے لینے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے ، اور یہی صفات انہیں اعلیٰ مقام تک لے جاتی ہیں۔

آخری انتخابات اور اس کے بعد کی خاموشی

آخری باقاعدہ انتخابات 2019 میں منعقد ہوئے۔ اس کے بعد کووِڈ-19 کی وبا کو وجہ بنا کر انتخابی عمل روک دیا گیا۔ وبا ختم ہوئی، کلاسیں بحال ہوئیں، امتحانات ہوئے،تقریبات منعقد ہوئیں، لیکن یونین انتخابات کی بحالی کا اعلان نہیں ہوا۔

طلبہ نے بارہا احتجاج کیا۔ وائس چانسلر سے ملاقاتیں ہوئیں۔ تاریخ دینے کے وعدے کیے گئے۔ مگر ہر بار کچھ عرصہ گزرنے کے بعد معاملہ ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا۔

2026 آ چکا ہے ، اور سوال اب بھی زندہ ہے۔

کیا انتظامیہ انتخابات سے خوفزدہ ہے؟

یہ سوال اب کیمپس کی دیواروں سے ٹکرا کر گونج رہا ہے:

آخر انتظامیہ انتخابات سے گریز کیوں کر رہی ہے؟

کیا ایک مضبوط طلبہ قیادت سے اختلاف رائے بڑھے گا؟

یا پھر یہ اندیشہ ہے کہ منتخب نمائندے انتظامی فیصلوں پر سوال اٹھائیں گے؟

یاد رکھنا چاہیے کہ جمہوریت سوال سے کمزور نہیں ہوتی بلکہ مضبوط ہوتی ہے۔

جب دہلی یونیورسٹی اور جواہر لال یونیورسٹی میں طلبہ یونین کے انتخابات باقاعدگی سے منعقد ہو سکتے ہیں، تو AMU میں یہ روایت کیوں منجمد ہے؟

یونین کیوں ضروری ہے؟

طلبہ یونین محض جلسے جلوس کا نام نہیں۔

یہ وہ پلیٹ فارم ہے جہاں سے:

صدر طلبہ کی مجموعی قیادت کرتا ہے

نائب صدر مختلف شعبہ جات کے مسائل کو جوڑتا ہے

سیکریٹری انتظامیہ سے باضابطہ خط و کتابت کرتا ہے

کیبنٹ ممبران اپنی اپنی فیکلٹی کے مسائل اجاگر کرتے ہیں

کورٹ ممبر یونیورسٹی کے اعلیٰ فورمز میں طلبہ کی نمائندگی کرتا ہے

ہاسٹل کی پریشانیاں ہوں، فیس میں اضافہ ہو، اسکالرشپ کا مسئلہ ہو یا حاضری کا معاملہ، منتخب نمائندے طلبہ کی آواز کو منظم انداز میں پیش کرتے ہیں۔

اگر یونین نہ ہو تو طلبہ کی آواز منتشر ہو جاتی ہے۔

نئی نسل محروم کیوں؟

2019 کے بعد داخلہ لینے والے ہزاروں طلبہ نے کبھی انتخابی ماحول دیکھا ہی نہیں۔ انہوں نے نہ منشور سنا، نہ مباحثہ دیکھا، نہ ووٹ ڈالنے کا تجربہ کیا۔

یہ صرف ایک انتخاب نہیں بلکہ جمہوری تربیت کا عمل ہے۔ نوجوان جب ووٹ دیتے ہیں، بحث کرتے ہیں، اختلاف رائے سنتے ہیں تو ان میں برداشت، قیادت اور ذمہ داری کا شعور پیدا ہوتا ہے۔

علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی شناخت اور اس کا جمہوری چہرہ

سر سید احمد خان نے اس ادارے کو صرف تعلیم کے لیے نہیں بلکہ فکری بیداری کے لیے قائم کیا تھا۔ AMU ہمیشہ مکالمے اور شعور کی علامت رہی ہے۔ طلبہ یونین اسی روایت کا تسلسل تھی۔

اگر یہ روایت ختم ہو جائے تو ادارہ صرف ایک انتظامی ڈھانچہ بن کر رہ جاتا ہے۔

2026: فیصلہ کن سال

اب وقت آ گیا ہے کہ انتظامیہ واضح مؤقف اختیار کرے۔

کیا انتخابات ہوں گے؟

اگر ہوں گے تو کب؟

اور اگر نہیں ہوں گے تو اس کی باضابطہ وجہ کیا ہے؟

خاموشی سوالوں کو جنم دیتی ہے۔ شفافیت اعتماد پیدا کرتی ہے۔

نتیجہ: آنکھیں کھولنے کا وقت

طلبہ دشمنی کسی مسئلے کا حل نہیں۔ منتخب یونین ادارے کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط بناتی ہے۔

اگر AMU اپنی تاریخی عظمت برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اسے اپنی جمہوری روایت بحال کرنا ہوگی۔

2026 کا سال گزر رہا ہے۔ کیمپس میں نوجوان آنکھیں منتظر ہیں۔

یہ ادارہ صرف عمارتوں سے نہیں بلکہ آوازوں سے زندہ رہتا ہے۔

اور جب آوازوں کو پلیٹ فارم ملتا ہے تو تاریخ بنتی ہے۔

اب گیند انتظامیہ کے کورٹ میں ہے۔کیا وہ روایت کو زندہ کرے گی ، یا سوالوں کو مزید گہرا ہونے دے گی؟

وقت فیصلہ مانگ رہا ہے۔ کیا طلبہ یونین کے انتخابات ہوں گے یا صرف تاریخ پے تاریخ دیکر اے ایم یو طلبہ کی آواز کو خاموش کردیا جائے گا، یہ پھر اچھے انتظامیہ کی طرح طلبہ کی آواز کو بلند کر طلبہ یونین کا انتخابات کرا کر تاریخ رقم کریگا.

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read