Bharat Express DD Free Dish

AMU

صدرِ جمہوریہ کی منظوری کے بعد پروفیسر نے اپنی سابقہ یونیورسٹی کے دورے کے دوران معروف لائبریری ’مولانا آزاد سینٹرل لائبریری‘ کا معائنہ کیا اور نایاب مخطوطات و تاریخی خزانوں کے درمیان گزارے گئے اپنے ایام کی یادیں تازہ کیں۔ اس موقع پر پروفیسر پنکج متل اور پروفیسر گیتا بھٹ بھی موجود تھیں۔ معائنے سے قبل اے ایم یو کے وائس چانسلر نے تینوں ایگزیکٹو کونسل ارکان کا استقبال کیا۔

مذہبی مقدس مقامات کسی معاشرے کی زندگی میں صرف اینٹ، پتھر اور چونے سے بنی ہوئی عمارتیں نہیں ہوتے ہیں بلکہ مسجد کی اذان، مدرسے کی درس گاہ، درگاہ کی خاموش فضا، خانقاہ کی روحانی مجلس، مندر کی گھنٹی، چرچ کی عبادت، گردوارے کی خدمت اور دوسرے مذہبی مراکز انسانی زندگی کے ان گوشوں سے وابستہ ہوتے ہیں جہاں عقیدہ، تہذیب، روایت اور اجتماعی یادیں ایک دوسرے سے مربوط ہوتی ہیں۔ کسی بستی میں ایک مذہبی مقام اگر کئی نسلوں سے قائم ہو تو وہ وہاں رہنے والوں کے لیے محض زمین پر بنی ہوئی ایک عمارت نہیں رہتا بلکہ ان کی روزمرہ زندگی اور اجتماعی حافظے کا حصہ بن جاتا ہے۔

اے ایم یو کی طلبہ یونین محض ایک نمائندہ ادارہ نہیں تھی، بلکہ یہ قیادت سازی کی تجربہ گاہ تھی۔ یہاں منتخب ہونے والا صدر صرف ایک عہدہ دار نہیں بلکہ ایک ابھرتا ہوا رہنما سمجھا جاتا تھا۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے سابق طالب علم ایڈوکیٹ انیس الحق بمبئی مرکنٹائل بینک کی کسٹمر سروس کمیٹی کے چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔

علی گڑھ میں طلبا کا احتجاج اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایک پرامن مظاہرے کے دوران یونیورسٹی کی پروکٹوریل ٹیم اور پولیس پر طالبات کو ہراساں کرنے کے الزامات سامنے آئے۔

عدالتی دستاویزات اور سرکاری ذرائع سے موصول ہوئی جانکاری کے مطابق، ایکٹنگ وائس چانسلر پر جان بوجھ کر اس سلیکشن کمیٹی کی صدارت کرنے کا الزام ہے، جس میں ان کی اہلیہ امیدوار تھیں، یہ اقدام ادارہ جاتی اخلاقیات اور سروس کنڈکٹ کے قوانین کی ڈائریکٹ خلاف ورزی ہے

اے ایم یو کے پروفیسروں نے آرایس ایس سربراہ سے ملاقات کی کوششیں شروع کر دی ہیں، گرچہ ایسے پروفیسروں کی تعداد بیس ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہ ان میں سے تین کو موہن بھاگوت سے ملنے کا وقت ملا ہے۔

بی جے پی رکن پارلیمنٹ ستیش گوتم نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہولی منانے سے متعلق تنازعہ کویہ کہہ کر مزید بڑھا دیا کہ ’’کوئی بھی کسی کواے ایم یوکیمپس میں ہولی منانے سے نہیں روک سکتا۔‘‘ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے پہلے اجازت دینے سے انکار کردیا تھا، لیکن اب اجازت مل گئی ہے۔

اے ایم یو پراکٹر محمد وسیم علی نے کہاکہ روایتی طور پر تمام تہوار بشمول عید، ہولی اور دیوالی سبھی ہاسٹلوں میں منائے جاتے ہیں۔ کسی خاص گروپ کے لیے خصوصی تقریب منعقد کرنے کی کوئی مثال نہیں ہے۔ اس وقت، ہم ایک نئی مثال قائم کرنا مناسب نہیں سمجھتے۔

جامعہ اسلامیہ سنابل کے بانی اور معروف عالم دین مولانا عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ کی حیات وخدمات پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں دو روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس کا موضوع ’’مسلمانان ہند کی تعلیمی وسماجی ترقی میں مولانا عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ کا کردار‘‘ تھا۔