لداخ میں کنیکٹیویٹی، بجلی، پانی اور تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے کئی اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی 15 اکتوبر کو دوپہر تقریباً 12:30 بجے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے تقریباً 3,350 کروڑ روپے کے پانچ ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کریں گے۔ اس موقع پر وہ لوگوں سے خطاب بھی کریں گے۔ ان منصوبوں کا فائدہ صرف بنیادی سہولیات تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ ان سے مقامی لوگوں کی روزمرہ زندگی آسان بنانے، سیاحت کو فروغ دینے، کسانوں کو آب پاشی کے لیے پانی فراہم کرنے اور سرحدی علاقوں میں آمدورفت بہتر بنانے میں بھی مدد ملنے کی امید ہے۔ لیہہ آنے اور جانے والے مسافروں کے لیے کشوک باکولا رنپوچھے ہوائی اڈے کا نیا ٹرمینل خاص اہمیت رکھتا ہے۔ تقریباً 640 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار اس ٹرمینل کا رقبہ 23,800 مربع میٹر ہے۔ اس کی مدد سے سالانہ تقریباً 35 لاکھ مسافروں کو سہولت فراہم کی جا سکے گی۔ لداخ میں سیاحت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر ہوائی اڈے کی گنجائش میں اضافہ ایک اہم قدم ہے۔ نیا ٹرمینل جدید مسافر سہولیات سے لیس ہے اور اسے علاقے کے نازک ماحولیاتی نظام کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ اس کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ توانائی کی کھپت اور کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے اس میں ارضی حرارت یعنی جیو تھرمل توانائی کا استعمال کیا گیا ہے۔ ٹرمینل کے ڈیزائن میں لداخ کی مقامی ثقافت اور ورثے کی جھلک بھی نظر آئے گی۔ اس سے مسافروں کو بہتر سہولیات ملنے کے ساتھ علاقے کے فضائی رابطے کو بھی مضبوطی ملنے کی امید ہے۔
زانسکار وادی سے گزرے گی نئی سڑک
لداخ کے لیے دوسرا اہم منصوبہ 298 کلومیٹر طویل نیمو-پدم-درچا سڑک ہے۔ سرحدی سڑک تنظیم (بی آر او) نے اس سڑک کی تعمیر کی ہے۔ یہ سڑک لیہہ کے نیمو کو زانسکار وادی کے راستے ہماچل پردیش کے درچا سے جوڑتی ہے۔ اس سڑک کے شروع ہونے سے لداخ کے لیے رابطے کا ایک اضافی راستہ دستیاب ہوگا۔ فی الحال سری نگر-لیہہ اور منالی-لیہہ شاہراہیں اس علاقے میں آمدورفت کے اہم راستوں میں شامل ہیں۔ نیا راستہ ان شاہراہوں پر انحصار کم کرنے اور ضرورت پڑنے پر متبادل راستہ فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ہمالیہ کے دشوار گزار پہاڑی علاقے اور بلند مقام پر واقع شنکون لا درے سے گزرنے کے باعث اس سڑک کی تعمیر انجینئرنگ کے لحاظ سے بھی ایک بڑا چیلنج رہی ہے۔ دفاعی نقطہ نظر سے یہ راستہ اہم ہے، کیونکہ اس سے مسلح افواج کی نقل و حرکت اور ضروری سامان کی ترسیل میں مدد ملے گی۔ زانسکار وادی میں رہنے والے لوگوں کے لیے بھی یہ سڑک مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ بہتر سڑک رابطے سے اسپتالوں، تعلیمی اداروں، بازاروں اور دیگر ضروری خدمات تک پہنچنا آسان ہونے کی امید ہے۔
بجلی کے نظام کو مضبوط بنانے پر زور
لداخ کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دو منصوبے بھی شروع کیے جائیں گے۔ ان میں 9 میگاواٹ کا ہانو چھوٹا پن بجلی منصوبہ اور 66 کے وی کی ڈبل سرکٹ داہ-ہانو-کھلتسی بجلی ترسیلی لائن شامل ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد بجلی کی فراہمی کو زیادہ قابل اعتماد بنانا اور علاقے کے بجلی نیٹ ورک کو مضبوط کرنا ہے۔ لداخ میں پن بجلی پیدا کرنے کے اچھے امکانات موجود ہیں۔ ایسے میں مقامی آبی وسائل کے بہتر استعمال سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ بجلی کی بہتر فراہمی سے گھریلو صارفین کے علاوہ مقامی کاروبار، سیاحت اور دیگر ضروری خدمات کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
سندھ گھاٹ پر بنے گا چٹانی نقوش کے تحفظ کا پارک
ترقیاتی منصوبوں میں لداخ کے تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کی پہل بھی شامل ہے۔ وزیر اعظم لیہہ کے سندھ گھاٹ پر بھارت کے پہلے چٹانی نقوش کے تحفظ کے پارک کا افتتاح کریں گے۔ لداخ میں قبل از تاریخ دور کے چٹانی نقوش والے سیکڑوں مقامات موجود ہیں۔ ان چٹانوں پر انسانوں، جنگلی جانوروں اور مختلف علامتوں کی تصویریں کندہ ہیں۔ یہ نقوش ہزاروں سال پہلے کی زندگی، انسانی سرگرمیوں اور اس دور کی ثقافتی روایات کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ایسے تاریخی آثار کو محفوظ رکھنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ اس تحفظ پارک کا مقصد ان تاریخی ورثوں کو بچانا، عام لوگوں کو ان کی تاریخی اہمیت سے واقف کرانا اور ذمہ دارانہ انداز میں ورثے پر مبنی سیاحت کو فروغ دینا ہے۔ اس سے سیاحوں کو لداخ کے قدرتی مناظر کے ساتھ اس کی قدیم تاریخ کو قریب سے سمجھنے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔
40 گاؤں میں پانی کے تحفظ کے بہتر انتظامات
پانچواں منصوبہ پانی سے متعلق ہے۔ وزیر اعظم پروجیکٹ ہِم سروور کے تحت 40 گاؤں میں تیار کیے گئے 40 آبی ذخائر کا افتتاح کریں گے۔ یہ پہل لداخ کے جغرافیائی حالات اور پانی کی دستیابی سے جڑے چیلنجوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہے۔ اس کے مقاصد مرکزی حکومت کے مشن امرت سروور سے بھی مطابقت رکھتے ہیں۔ لداخ میں زراعت کے لیے پانی کی دستیابی سال بھر یکساں نہیں رہتی۔ برف پگھلنے اور گلیشیئرز سے پانی ملنے کے باعث بعض اوقات وافر مقدار میں پانی دستیاب ہوتا ہے، لیکن فصلوں کی بوائی کے اہم موسم میں کسانوں کو پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسی صورت حال میں پانی ذخیرہ کرنا اور ضرورت کے وقت اسے استعمال کرنا انتہائی ضروری ہو جاتا ہے۔ پروجیکٹ ہِم سروور کا مقصد بھی دستیاب پانی کو محفوظ کرنا ہے، تاکہ ضرورت پڑنے پر اسے استعمال کیا جا سکے۔ ان آبی ذخائر سے آب پاشی میں مدد ملنے، کسانوں کی روزی روٹی کو سہارا دینے اور مستقبل میں پانی کی دستیابی بہتر بنانے کی امید ہے۔ لداخ جیسے سرد اور خشک علاقے میں پانی کا تحفظ مزید اہمیت رکھتا ہے۔
ترقی کے ساتھ مقامی ضروریات پر بھی توجہ
تقریباً 3,350 کروڑ روپے کے یہ پانچ منصوبے لداخ کی ترقی کے مختلف پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہیں۔ نیا ایئرپورٹ ٹرمینل فضائی سفر کو بہتر بنانے میں مدد کرے گا، جبکہ نیمو-پدم-درچا سڑک آمدورفت اور رابطے کے نئے متبادل فراہم کرے گی۔ پن بجلی منصوبہ اور بجلی کی ترسیلی لائن توانائی کے نظام کو مضبوط کریں گے۔ دوسری جانب، چٹانی نقوش کے تحفظ کا پارک تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے اور ہِم سروور پانی کی دستیابی بہتر بنانے کی سمت میں اہم کردار ادا کرے گا۔ تاہم، ان منصوبوں سے حقیقی فائدہ اس بات پر بھی منحصر ہوگا کہ ان کا استعمال، انتظام اور دیکھ بھال کتنے مؤثر طریقے سے کی جاتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


