وزیر اعظم مودی پارلیمنٹ میں آپریشن سندور پر بحث کے دوران خطاب کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کو ہندوستان کی کامیابی اور موقف نظر نہیں آتا، میں انھیں آئینہ دکھانے کے لیے کھڑا ہوا ہوں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ’’22 اپریل کو پہلگام میں جو سفاکانہ واقعہ ہوا، جس طرح دہشت گردوں نے معصوم لوگوں سے ان کے مذہب کے بارے میں پوچھا اور پھر انھیں گولی مار دی، وہ ظلم کی انتہا تھی۔ یہ بھارت کو تشدد کی آگ میں جھونکنے کی ایک منصوبہ بند کوشش تھی۔ یہ بھارت میں فساد پھیلانے کی سازش تھی۔ آج میں ہم وطنوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس سازش کو ناکام بنا دیا گیا۔‘‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہم نے دہشت گردوں کو ایسی سزا دی کہ آج بھی دہشت گردوں کے آقاؤں کی نیند اڑی ہوئی ہے۔ ہم نے 22 اپریل کا بدلہ 22 منٹ میں لیا۔ بہاولپور اور مریدکے کو زمیں دوز کر ڈالا‘‘۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے دنیا کو پیغام دے دیا کہ ہندوستان اپنی زمین پر ہونے والے حملے کا سخت سے سخت جواب دے گا اور آپریشن سندور میں دنیا نے ’’آتم نربھر بھارت‘‘ کی طاقت دیکھ لی۔
اپوزیشن پر نشانہ سادھتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ جہاں پوری دنیا ہندوستان کی حمایت میں کھڑی تھی، لیکن جوانوں کو کانگریس کا سپورٹ نہیں ملا۔ کیوں کہ کانگریس کو بھارت کی طاقت پر بھروسہ نہیں ہے۔ دہشت گردانہ حملے کے تین دن بعد کانگریس مزے لے رہی تھی اور مجھ پر نشانہ سادھ رہی تھی۔
پی ایم مودی نے مزید کہا کہ آپریشن سندور کے وقت ہمارا مقصد طے تھا۔ اور مقصد دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کی تربیت گاہوں پر حملہ کرنا تھا۔ جہاں پہلگام کے دہشت گردوں کو تربیت دی گئی، ہم نے سٹیک طریقے سے آپریشن سندور کے تحت دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور ہماری افواج نے صد فی صد مقصد حاصل کر کے ملک کا نام اونچا کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کی فوج نے پاکستان کی فوج کو چند منٹ میں بتا دیا کہ ہمارا جو مقصد تھا وہ ہم نے پورا کر دیا ہے۔ اگر پاکستان میں سمجھ داری ہوتی تو دہشت گردوں کے ساتھ کھلے عام کھڑے رہنے کی غلطی نہ کرتا۔ اس نے بے شرم ہو کر دہشت گردوں کے ساتھ کھڑے رہنے کا فیصلہ کیا۔ ہم پوری طرح تیار تھے۔ ہم بھی موقع کی تلاش میں تھے۔ لیکن ہم نے دنیا کو بتایا تھا کہ ہمارا ہدف دہشت گرد اور ان کے ٹھکانے ہیں، وہ ہم نے پورا کر دیا۔ لیکن جب پاکستان نے دہشت گردوں کی مدد میں میدان میں اترنے کی ہمت کی تو فوج نے ایسا جواب دیا جو سالوں تک انھیں یاد رہے گا۔
پاکستان کے ڈی جی ایم او نے گہار لگائی کہ بس کرو بہت مارا، اب اور مار جھیلنے کی طاقت نہیں ہے۔ جس کے بعد ہم نے یہ کہہ کر حملہ روکا کہ آگے سے ایسا کیا تھا۔‘‘ انھوں نے واضح کیا کہ ’’دنیا کے کسی بھی نیتا نے بھارت کو آپریشن سندور روکنے کے لیے نہیں کہا۔ اسی دوران نو تاریخ کو رات کو امریکہ کے نائب صدر نے مجھ سے بات کرنے کی کوشش کی۔ وہ گھنٹے بھر تک کوشش کر رہے تھے، لیکن میں فوج کے ساتھ میٹنگ میں تھا تو میں ان کا فون اٹھا نہیں پایا۔ بعد میں میں نے ان کو فون کیا اور پوچھا کیا ہے۔ تو امریکہ کے نائب صدر نے مجھے فون پر بتایا کہ پاکستان بہت بڑا حملہ کرنے والا ہے۔ میرا جواب تھا کہ اگر پاکستان کا یہ ارادہ ہے تو اسے بہت مہنگا پڑے گا۔ یہ میں نے امریکہ کے نائب صدر کو کہا۔ اگر پاکستان حملہ کرے گا تو ہم بڑا حملہ کر کے جواب دیں گے۔ ہم گولی کا جواب گولے سے دیں گے۔ یہ نہ تاریخ کی رات کی بات ہے۔
پی ایم مودی نے مزید کہا کہ آج پاکستان بھی اچھی طرح جان گیا ہے کہ بھارت کا ہر جواب پہلے سے تگڑا ہوتا ہے۔ اسے پتہ ہے کہ اگر مستقبل میں نوبت آئی تو بھارت آگے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ آج میں پھر سے دہرانا چاہتا ہوں کہ آپریشن سندور جاری ہے۔ پاکستان نے اگر حملہ کیا تو اسے کرارا جواب دیا جائے گا۔ آج کا بھارت آتم وشواس سے بھرا ہوا ہے۔ آج کا بھارت آتم نربھرتا کے منتر کو لے کر پوری طاقت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ملک دیکھ رہا ہے کہ بھارت آتم نربھر بنتا جا رہا ہے۔ لیکن یہ ملک یہ بھی دیکھ رہا ہے کہ ایک طرف تو بھارت آتم نربھرتا کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، لیکن کانگریس مدعوں کے لیے پاکستان پر نربھر ہوتی جا رہی ہے۔ آج کے وارفیئر میں انفارمیشن اور نیریٹو کا اہم کردار ہے۔ بدقسمتی سے کانگریس اور اس کے حمایتی پاکستان کے ایسے ہی ترجمان بن چکے ہیں۔ جب فوج نے سرجیکل اسٹرائیل کی تو کانگریس نے ان سے ثبوت مانگے، لیکن جب انھوں نے ملک کا مزاج دیکھا تو ان کے سُر بدل گئے اور وہ کہنے لگے کہ سرجیکل اسٹرائیک کون سی بڑی بات ہے، یہ تو ہم نے بھی کی تھی۔ اس کے بعد بالاکوٹ میں فوج نے ایئر اسٹرائیک کی۔ اس پر تو یہ نہیں کہا کہ ہم نے بھی کی تھی، لیکن فوٹو مانگنے لگے۔ پاکستان بھی یہی پوچھتا تھا، یہ بھی یہی پوچھتے تھے۔ اتنا ہی نہیں جب پائلٹ ابھینندن پکڑے گئے تو پاکستان میں تو خوشی کا ماحول لازمی تھا، لیکن یہاں پر بھی کچھ لوگ تھے جو کانوں کانوں میں کہہ رہے تھے کہ اب مودی پھنسا۔ اب دیکھتے ہیں مودی کیا کرتا ہے۔ اور ڈنکے کی چوٹ پر ابھینندن واپس لایا گیا۔ ہم ابھینند کو لے آئے تو ان کی بولتی بند ہو گئی۔ ان کو لگا کہ یار ہمارا ہتھیار ہاتھ سے نکل گیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ پہلگام حملے کے بعد بی ایس ایف کا جواب جب پاکستان کے قبضے میں چلا گیا تو پھر انھیں لگا کہ اب مودی پھنس جائے گا۔ انھیں پھر ایک مدعا مل گیا۔ لیکن بی ایس ایف کا وہ جوان بھی آن بان اور شان کے ساتھ واپس آیا۔ دہشت گرد اور ان کے آقا رو رہے ہیں اور ان کو روتے دیکھ کر یہاں بھی کچھ لوگ رو رہے ہیں۔ اپوزیشن پوچھ رہی ہےکہ آپریشن روک کیوں دیا۔ پورا دیش آپ پر ہنس رہا ہے۔ فوج کے تئیں ایک منفی رویہ کانگریس کا پرانا رویہ رہا ہے۔ ملک نے حال ہی میں وجے دِوس منایا۔ لیکن ملک پوری طرح جانتا ہے کہ کانگریس کے عہد میں اور آج تک کانگریس نے کارگل کی فتح کو اپنایا نہیں ہے۔ نہ کارگل وجے دِوس منایا ہے اور اس کا اعزاز کیا ہے۔ جب ڈوکلام میں ہمارے فوجی بہادری دکھا رہے تھے، تب کانگریس کے نیتا چپکے چپکے کس سے کس ملتے تھے وہ ساری دنیا اب جان گئی ہے۔ آپ دیکھ لیے پاکستان کے سارے بیان اور یہاں ہماری مخالفت کرنے والوں کے بیان فل اسٹاپ اور کومہ کے بغیر ایک ہیں۔
میں ایک بات بتانا چاہتا ہوں جس پر پورے ملک کو فخر ہوگا۔ نو مئی کو پاکستان نے قریب ایک ہزار میزائل اور ڈرونز سے ہندوستان پر حملہ کرنے کی بہت بڑی کوشش کی۔ یہ میزائلیں اگر بھارت میں گرتیں تو بھاری تباہی مچتی۔ لیکن ان سب کو بھارت نے آسمان میں ہی چور چور کر دیا۔ لیکن کانگریس کے لوگ انتظار کر رہے تھے کہ کچھ تو گڑبڑ ہوگی مودی مرے گا۔ کہیں تو مودی پھنسے گا۔ تو جب پاکستان نے آدم پور بیس پر حملے کا جھوٹ پھیلایا تو میں نے اگلے دن خود وہیں جا کر ان کے جھوٹ کو بے نقاب کر دیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ کانگریس نے اس ملک میں لمبے وقت تک راج کیا ہے۔ اسے پتہ ہے کہ حکومت کیا ہوتی ہے اور کیسے چلتی ہے۔ اس کے بعد بھی وزارت خارجہ کے جواب کو ماننا نہیں، وزیر خارجہ بولیں، وزیر داخلہ بولیں، وزیر دفاع بولیں کسی پر بھروسہ نہیں۔ اب کانگریس کا بھروسہ پاکستان کے ریموٹ کنٹرول سے بنتا اور بدلتا ہے۔ کانگریس کے ایک بالکل نئے کانگریس کے نیتا نے پہلگام حملے کو تماشہ کہا۔
انھوں نے بتایا کہ پہلگام کے دہشت گردوں کو کل ہماری افواج نے آپریشن مہادیو کر کے انھیں ان کے انجام کو پہنچایا۔ لیکن میں حیران ہوں کہ یہاں پوچھا گیا کہ آخر یہ کل ہی کیوں ہوا۔ مجھے سمجھ نہیں آتا انھیں کیا ہو گیا۔ کیا آپریشن کے لیے بھی ساون کا سوموار ڈھونڈتے؟
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




