نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک میں شمسی توانائی کے شعبے میں حاصل ہونے والی بڑی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے ایک سال کے دوران سب سے زیادہ سولر کیپیسٹی شامل کرنے کا تاریخی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو ملک کی توانائی خود کفالت، پائیدار ترقی اور ”وکست بھارت“ کے وژن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ وزیرِ اعظم نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ پر ایک پوسٹ کے ذریعے مرکزی وزیر مملکت برائے صارفین کے امور، خوراک و عوامی تقسیم، اور نئی و قابل تجدید توانائی پرلہاد جوشی کے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے اس کامیابی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی کے میدان میں یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت نہ صرف تیزی سے ترقی کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی مضبوط موجودگی درج کرا رہا ہے۔ پرلہاد جوشی نے اپنے مضمون میں بتایا کہ بھارت نے مالی سال 2025-26 کے دوران تقریباً 45 گیگاواٹ شمسی توانائی کی صلاحیت میں اضافہ کیا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔ اس نمایاں اضافے نے بھارت کو دنیا کے سب سے تیزی سے بڑھتے ہوئے کلین انرجی مارکیٹس میں شامل کر دیا ہے اور اس کی عالمی حیثیت کو مزید مستحکم کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کامیابی میں راجستھان، گجرات اور مہاراشٹر جیسے ریاستوں کا کلیدی کردار رہا، جہاں بڑے پیمانے پر شمسی توانائی کے منصوبے قائم کیے گئے۔ ان ریاستوں میں سازگار جغرافیائی حالات اور حکومتی پالیسیوں نے اس شعبے کی ترقی کو رفتار دی۔ رپورٹس کے مطابق مارچ 2026 کے مہینے میں ہی 6.65 گیگاواٹ شمسی توانائی کی صلاحیت میں اضافہ ہوا، جو کسی ایک مہینے میں اب تک کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوٹیلیٹی اسکیل اور ڈسٹری بیوٹڈ سولر منصوبوں پر یکساں طور پر مؤثر انداز میں کام کیا جا رہا ہے، جس سے توانائی کے متنوع ذرائع کو فروغ مل رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کامیابی کے پیچھے گھریلو مینوفیکچرنگ میں بہتری، گرڈ انٹیگریشن کے نظام کو مضبوط بنانا اور حکومتی سطح پر موثر پالیسی سپورٹ اہم عوامل ہیں۔ بھارت پہلے ہی 150 گیگاواٹ سے زیادہ شمسی توانائی کی مجموعی صلاحیت عبور کر چکا ہے، اور حالیہ اضافہ مستقبل میں اس شعبے کو مزید استحکام فراہم کرے گا۔ توانائی کے ماہرین کے مطابق شمسی توانائی کے بڑھتے ہوئے منصوبوں کے باعث ٹرانسمیشن نیٹ ورک، بیٹری اسٹوریج، گرین ہائیڈروجن اور سولر آلات کی تیاری کے شعبوں میں سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے۔ اس کے ساتھ ہی ماڈیولز، انورٹرز اور دیگر آلات کی برآمدات کے مواقع بھی پیدا ہوں گے، جو ملکی معیشت کو مزید تقویت دیں گے۔ ادھر سولر انرجی کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ نے وزارتِ نئی و قابلِ تجدید توانائی کو 115 کروڑ روپے کا ڈیویڈنڈ چیک پیش کیا، جو اس شعبے کی مضبوط مالی حالت کی عکاسی کرتا ہے۔ حکام کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ قابلِ تجدید توانائی نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ معاشی طور پر بھی فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے۔
پرلہاد جوشی نے مزید بتایا کہ بین الاقوامی قابلِ تجدید توانائی ایجنسی کی رپورٹ “رینیوایبل انرجی اسٹیٹسٹکس 2026” کے مطابق بھارت نے برازیل کو پیچھے چھوڑتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کی مجموعی صلاحیت کے لحاظ سے دنیا میں تیسرا مقام حاصل کر لیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جولائی 2025 میں بھارت نے بجلی کی پیداوار میں قابلِ تجدید توانائی کا سب سے زیادہ حصہ حاصل کیا تھا، جب 203 گیگاواٹ کی کل طلب میں سے 51.5 فیصد بجلی صاف توانائی کے ذرائع سے حاصل کی گئی۔ مزید برآں، 31 مارچ 2026 تک ملک میں نان فوسل فیول ذرائع سے 283.46 گیگاواٹ کی مجموعی صلاحیت قائم کی جا چکی ہے، جو ایک اہم سنگ میل ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

