Bharat Express DD Free Dish

Solar Energy

اتر پردیش کے مہوبا ضلع میں اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے کئی خاندانوں کے بجلی کے اخراجات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ مقامی مستحقین کا کہنا ہے کہ گھروں کی چھتوں پر روف ٹاپ سولر پینل لگنے کے بعد ان کا ماہانہ بجلی کا بل تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔

دو برس میں دنیا کے سب سے بڑے گھریلو روف ٹاپ سولر پروگرام کی بڑی کامیابی، 28 ہزار کروڑ روپے سے زائد سبسڈی جاری، 12 لاکھ خاندانوں نے اضافی بجلی فروخت کر کے آمدنی بھی حاصل کی۔

وزیراعظم نے گجرات، تمل ناڈو، مہاراشٹر اور راجستھان جیسی ریاستوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ علاقے قابلِ تجدید توانائی کے میدان میں نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر گجرات کے علاقوں کَچھ، پٹن اور بناس کانٹھا کا ذکر کیا، جہاں کبھی بنجر زمینیں تھیں، مگر آج وہاں بڑے بڑے قابلِ تجدید توانائی پارکس قائم ہو چکے ہیں۔ ان منصوبوں سے مقامی نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع مل رہے ہیں اور نئی مہارتیں بھی فروغ پا رہی ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ پر ایک پوسٹ کے ذریعے مرکزی وزیر مملکت برائے صارفین کے امور، خوراک و عوامی تقسیم، اور نئی و قابل تجدید توانائی پرلہاد جوشی کے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے اس کامیابی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ قابل تجدید توانائی کے میدان میں یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت نہ صرف تیزی سے ترقی کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی مضبوط موجودگی درج کرا رہا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کو بھارت کے شمسی توانائی کے شعبے میں بڑی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک نے ایک سال میں اب تک کی سب سے زیادہ سالانہ سولر صلاحیت شامل کرنے کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے شمسی توانائی کو مستقبل کی ضرورت قرار دیتے ہوئے ’پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا‘ کے فوائد گنوائے۔ اس منصوبے کے ذریعے جہاں ایک طرف لوگوں کے بجلی کے بل صفر ہو رہے ہیں، وہیں دوسری طرف نوجوانوں اور کسانوں کے لیے کمائی کے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔

مرکزی حکومت کی اہم اسکیم وزیر اعظم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا کے تحت مہاراشٹر کے وسئی-ویرار علاقے میں شمسی توانائی کے استعمال کو تیزی سے فروغ مل رہا ہے۔ بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر اب شہری بڑی تعداد میں اپنے گھروں اور عمارتوں کی چھتوں پر سولر پینل نصب کرنے کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں، جس سے نہ صرف بجلی کی بچت ہو رہی ہے بلکہ متبادل توانائی کے استعمال میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

شفاف اور پائیدار توانائی کو عوامی تحریک کی شکل دینے کی سمت ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے ٹاٹا پاور–دہلی ڈسٹری بیوشن لمیٹڈ ٹاٹا پاورنے اپنے ولیج کسٹمر گروپ (VCG–Solar) کے تعاون سے بروالا گاؤں میں ایک میگا سولر بیداری کیمپ کا کامیاب انعقاد کیا۔

مرکزی وزیر نے بھارت کی قابل تجدید توانائی میں پیش رفت کو وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کا ثمر قرار دیا اور کہا کہ ریاستیں بھی اس شعبے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

یہ پیش رفت اس وقت اہمیت اختیار کرتی ہے جب بھارت 2030 تک 500 گیگاواٹ غیر فوسل ایندھن پر مبنی بجلی کی صلاحیت کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کثیر جہتی نقطہ نظر کے ساتھ کام کر رہا ہے۔