Bharat Express DD Free Dish

Solar Energy Revolution

وزیر اعظم مودی نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ پر ایک پوسٹ کے ذریعے مرکزی وزیر مملکت برائے صارفین کے امور، خوراک و عوامی تقسیم، اور نئی و قابل تجدید توانائی پرلہاد جوشی کے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے اس کامیابی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ قابل تجدید توانائی کے میدان میں یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت نہ صرف تیزی سے ترقی کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی مضبوط موجودگی درج کرا رہا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے شمسی توانائی کو مستقبل کی ضرورت قرار دیتے ہوئے ’پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا‘ کے فوائد گنوائے۔ اس منصوبے کے ذریعے جہاں ایک طرف لوگوں کے بجلی کے بل صفر ہو رہے ہیں، وہیں دوسری طرف نوجوانوں اور کسانوں کے لیے کمائی کے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔

مرکزی حکومت کی اہم اسکیم وزیر اعظم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا کے تحت مہاراشٹر کے وسئی-ویرار علاقے میں شمسی توانائی کے استعمال کو تیزی سے فروغ مل رہا ہے۔ بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر اب شہری بڑی تعداد میں اپنے گھروں اور عمارتوں کی چھتوں پر سولر پینل نصب کرنے کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں، جس سے نہ صرف بجلی کی بچت ہو رہی ہے بلکہ متبادل توانائی کے استعمال میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت اس وقت اہمیت اختیار کرتی ہے جب بھارت 2030 تک 500 گیگاواٹ غیر فوسل ایندھن پر مبنی بجلی کی صلاحیت کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کثیر جہتی نقطہ نظر کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

جموں و کشمیر میں پہلے ہی تقریباً 75 میگاواٹ چھت پر نصب شمسی بجلی پلانٹس کی تنصیب ہو چکی ہے۔ یہ عمل حالیہ مہینوں میں وزیر اعظم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا اسکیم کی بدولت تیز ہوا ہے۔ ریاست بھر میں 8,000 گھریلو صارفین پہلے ہی اس میں شامل ہو چکے ہیں۔ جموں و کشمیر جیسے پہاڑی علاقوں میں بڑی شمسی منصوبے لگانا اب بھی مشکل ہے کیونکہ 100 میگاواٹ کے شمسی پارک کے لیے 500 ایکڑ زمین کی ضرورت ہوتی ہے، جو یہاں دستیاب نہیں۔