Bharat Express DD Free Dish

PM Modi Chairs Key Cabinet Meeting: بیرون ملک دورے سے واپسی کے فوراً بعد وزیر اعظم مودی نے کیوں بلائی اہم میٹنگ؟ امت شاہ، راج ناتھ سمیت تمام بڑے وزراء شریک

ذرائع کے مطابق یہ رواں سال کی وزراء کونسل کی پہلی بڑی میٹنگ ہوگی، جسے سیاسی اور انتظامی اعتبار سے نہایت اہم مانا جا رہا ہے۔ اجلاس شام 4:30 بجے شروع ہوگا اور اس کے تقریباً چار سے پانچ گھنٹے تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم مودی تمام وزارتوں کے کام کا تفصیلی جائزہ لیں گے اور آنے والے وقت کے لیے حکومتی ترجیحات طے کریں گے۔

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی اپنے حالیہ پانچ ملکی غیر ملکی دورے سے وطن واپسی کے فوراً بعد آج نئی دہلی میں مرکزی وزراء کی ایک اہم میٹنگ کی صدارت کریں گے۔ یہ اجلاس دارالحکومت کے سیوا تیرتھ میں منعقد ہوگا، جس میں مرکزی کابینہ کے تمام اہم اراکین، آزادانہ چارج والے وزرائے مملکت اور دیگر وزراء شرکت کریں گے۔ حکومت کے موجودہ کاموں کا جائزہ، مختلف وزارتوں کی کارکردگی، آئندہ مہینوں کی ترجیحات اور ممکنہ کابینہ رد و بدل سے متعلق قیاس آرائیاں اس میٹنگ کے اہم نکات میں شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ رواں سال کی وزراء کونسل کی پہلی بڑی میٹنگ ہوگی، جسے سیاسی اور انتظامی اعتبار سے نہایت اہم مانا جا رہا ہے۔ اجلاس شام 4:30 بجے شروع ہوگا اور اس کے تقریباً چار سے پانچ گھنٹے تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم مودی تمام وزارتوں کے کام کا تفصیلی جائزہ لیں گے اور آنے والے وقت کے لیے حکومتی ترجیحات طے کریں گے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق مختلف وزارتوں نے گزشتہ دو برسوں کے دوران کیے گئے اصلاحی اقدامات، نئی پالیسیوں اور گزشتہ بارہ برسوں میں مکمل کی گئی اہم اسکیموں کی تفصیلات پہلے ہی کابینہ سیکریٹریٹ کو سونپ دی ہیں۔ میٹنگ میں ان رپورٹوں پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی اور اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ کن منصوبوں سے عوام کو زیادہ فائدہ پہنچا اور کن شعبوں میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس بات کی بھی کافی چرچا ہے کہ اجلاس میں ممکنہ کابینہ رد و بدل پر غیر رسمی گفتگو ہو سکتی ہے۔ حالانکہ حکومت کی جانب سے اس بارے میں کوئی باضابطہ اشارہ نہیں دیا گیا، لیکن مبصرین کا ماننا ہے کہ آئندہ ریاستی انتخابات اور مرکزی حکومت کے بارہ سال مکمل ہونے کے پیش نظر کچھ اہم تبدیلیاں زیر غور آ سکتی ہیں۔

میٹنگ میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور ایران جنگ پر بھی خصوصی تبادلہ خیال متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم مودی اس تنازع کے بھارت پر پڑنے والے معاشی اثرات، خاص طور پر توانائی کی قیمتوں، تیل سپلائی، تجارت اور لاجسٹکس سے متعلق مسائل کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ عالمی کشیدگی کے باوجود عام شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ توانائی، زراعت، کھاد، ہوابازی، شپنگ اور لاجسٹکس سے متعلق وزارتوں کو خصوصی ہدایات دی جا سکتی ہیں تاکہ عالمی بحران کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی ترجیح عوامی مفاد کو ہر حال میں محفوظ رکھنا ہے اور اسی مقصد کے تحت تمام متعلقہ وزارتوں کو فعال رہنے کی ہدایت دی جا سکتی ہے۔

یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت 9 جون کو اپنے اقتدار کے بارہ سال مکمل کرنے جا رہی ہے۔ اس موقع پر حکومت اپنی کارکردگی، ترقیاتی منصوبوں اور اصلاحاتی اقدامات کا جامع جائزہ لینے کی تیاری کر رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ میٹنگ میں حکومت کے گزشتہ بارہ برسوں کی کامیابیوں سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ بھی پیش کی جائے گی۔ وزیر اعظم مودی پہلے ہی آئندہ دس برسوں کے لیے ریفارم ایکسپریس کے نام سے اصلاحاتی روڈ میپ کی بات کر چکے ہیں، جس کا مقصد بنیادی سطح پر تبدیلیاں لا کر عام شہریوں کو براہ راست فائدہ پہنچانا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق آج کی یہ میٹنگ حکومت کی آئندہ حکمت عملی اور پالیسی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

بھارت ایکپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read