عام آدمی پر ایک مرتبہ پھر مہنگائی کا ہنٹر چلاتے ہوئے حکومت نے پورے ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 3 روپے فی لیٹر تک اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد عام لوگوں کی جیب پر براہِ راست اثر پڑنا طے مانا جا رہا ہے۔
دہلی میں نئی قیمتیں
قومی راجدھانی دہلی میں اب پٹرول کی قیمت 97.77 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت بڑھ کر 90.67 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے پہلے پٹرول 94.77 روپے اور ڈیزل 87.67 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا تھا۔
دیگر میٹرو شہروں میں بھی اضافہ
کولکاتا میں پٹرول کی قیمت 3.29 روپے بڑھ کر 108.74 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے، جبکہ ڈیزل 3.11 روپے مہنگا ہو کر 95.13 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ممبئی میں پٹرول 3.14 روپے اضافے کے بعد 106.68 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 93.14 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔چنئی میں پٹرول 2.83 روپے بڑھ کر 103.67 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 2.86 روپے اضافے کے ساتھ 95.25 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔
پیٹرولیم کے وزیر کا بیان
مرکزی وزیرِ پیٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری نے حال ہی میں کہا تھا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے سبب ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق گزشتہ چار برسوں سے قیمتوں میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی گئی تھی اور آخری بار سال 2022 میں دام بڑھائے گئے تھے۔
تیل کمپنیوں پر مالی دباؤ
تیل مارکیٹنگ کمپنیاں مسلسل مالی دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔ وزیر کے مطابق کمپنیوں کی ’انڈر ریکوری‘ یعنی لاگت سے کم وصولی تقریباً 2 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا تھا۔
عام لوگوں پر اثر
جمعہ سے ملک کے چاروں بڑے شہروں میں پٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں نافذ کر دی گئی ہیں۔ اس اضافے سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کی لاگت بڑھے گی بلکہ روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ عام شہریوں کے لیے یہ فیصلہ یقینی طور پر اضافی مالی بوجھ لے کر آیا ہے۔
اس طرح بین الاقوامی حالات اور تیل کمپنیوں کی مالی صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکومت نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
