Bharat Express DD Free Dish

Petrol Price

ڈونالڈ ٹرمپ کے فوجی کارروائی روکنے کے اشارے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا بھارت میں بھی پٹرول اور ڈیزل سستے ہوں گے، اور خام تیل کی قیمتوں میں اس گراوٹ کا ملکی ایندھن کی قیمتوں پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

تیجسوی یادو نے دعویٰ کیا کہ آنے والے دنوں میں عوام کو شدید مہنگائی جھیلنی پڑے گی، نجی شعبے میں نوکریاں کم ہوں گی، مہاجر مزدور واپس لوٹیں گے اور چھوٹے کاروبار متاثر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں غربت اور بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوگا۔

 کانگریس نے کہا کہ ایک طرف دنیا بھر کی حکومتیں اپنی عوام کو راحت فراہم کر رہی ہیں، جبکہ یہاں حکومت عوام کو ہی لوٹنے میں لگی ہے۔ پارٹی نے اپنے حملے کو جاری رکھتے ہوئے لکھا کہ کبھی تو عوام کی بھلائی کے بارے میں سوچ لو، آخر کب تک سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچاتے رہو گے؟

15 مئی کو سرکاری تیل کمپنیوں نے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے سبب توانائی کی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ مرحلہ وار صارفین پر منتقل کرنا شروع کیا تھا۔15 مئی کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 3 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد 19 مئی کو 80 پیسے سے زیادہ کا مزید اضافہ کیا گیا۔

پہلے سے مہنگائی کی مار جھیل رہی عوام پر مزید بوجھ ڈالتے ہوئے حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔نئی قیمتوں کے مطابق پٹرول 97.81 روپے اور ڈیزل 90.71 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ جانیے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق پوری خبر۔

سرکاری تیل کمپنیوں نے صبح 6 بجے پٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں اپڈیٹ کر دی ہیں۔ جہاں کمرشل سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، وہیں ریٹیل ایندھن کے محاذ پر عام آدمی کے لیے کیا تبدیلیاں ہوئی ہیں، اس کی مکمل معلومات یہاں دیکھیں۔

مرکزی حکومت نے منگل کے روز کہا کہ فی الحال پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی تیل مارکیٹ متاثر ہوئی ہے، تاہم حکومت نے عوام کی تشویش کم کرنے کی کوشش کی ہے۔

پیٹرول اور ڈیزل کی کمی سے متعلق افواہوں پر انڈین آئل نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ایندھن کی کوئی کمی نہیں ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور صرف سرکاری و مستند معلومات پر ہی بھروسہ کریں۔

یکم دسمبر سے نافذ ہونے والے کئی نئے قواعد کا عام لوگوں کے اخراجات، بینکنگ امور، ٹیکس کے طریقۂ کار اور پنشن سہولیات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ایل پی جی کی قیمتوں میں ترمیم سے لے کر آن لائن بینکنگ کی اپ ڈیٹس تک، یہ تبدیلیاں آنے والے دنوں میں آپ کی مالی منصوبہ بندی کو متاثر کر سکتی ہیں۔

اسرائیل حماس جنگ کی وجہ سے یہ 90 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کے ریٹ 0.18 فیصد اضافے کے ساتھ 85.54 ڈالر فی بیرل کی سطح پر برقرار ہیں۔