فائل فوٹو۔
جموں وکشمیرکے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا ہے کہ انڈیا الائنس کومل کریہ طے کرنا ہوگا کہ آئین ترمیمی بل، 2026 پراپوزیشن کا کیا ردعمل ہوگا۔ اس بل کا مقصد لوک سبھا میں سیٹوں کی تعداد بڑھا کر850 کرنا اور خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دینا ہے۔ اپنے کاریگرکو جانیں پہل کے افتتاح کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمرعبداللہ نے کہا کہ انڈیا الائنس کو مل کریہ طے کرنا ہوگا کہ اس بل پرہمارا کیا ردعمل ہوگا اور پارلیمنٹ میں ہمارا کیا رول ہوگا، چاہے وہ لوک سبھا میں ہو یا راجیہ سبھا میں ہو۔
حد بندی کے سوال پرعمرعبداللہ نے کیا کہا؟
یہ پوچھے جانے پرکہ کیا حد بندی کا کوئی مثبت اثرپڑے گا؟ وزیراعلیٰ نے کہا، “یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس بل کا مقصد بی جے پی کو فائدہ پہنچانا ہے یا عام رائے دہندگان کو۔ ”انہوں نے 2023 میں جموں وکشمیر میں ہوئی حد بندی کا ذکرکرتے ہوئے کہا، “ہمارے گزشتہ تجربے کی بنیاد پرکہہ سکتے ہیں کہ حد بندی سے ہمیں فائدہ ہوگا۔ حالانکہ اس حد بندی کے تحت کسی ایک پارٹی یا اس کے حامیوں کوفائدہ پہنچانے کی کوششیں کی گئی تھیں۔” عمرعبداللہ نے مزید کہا، “جس طرح سے یہاں سیٹوں کی تقسیم کی گئی اورانتخابی حلقوں کی سرحدیں طے کی گئیں، جس طرح سے ان کی حدیں کھینچی گئیں اورجس طرح سے کچھ رائے دہندگان کوایک انتخابی حلقہ سے دوسرے میں منتقل کیا گیا۔ ان سب کا مقصد کسی بھی طرح سے یہ یقینی بنانا تھا کہ بی جے پی اوراس کے اتحادیوں کو ہی فائدہ ہو۔”
”اگر بی جے پی کو فائدے کے لئے بل ہے تو ہمیں غورکرنا ہوگا”
انہوں نے یہ بھی کہا، “اگریہ بل صرف اس مقصد سے لایا جا رہا ہے تواس کا حتمی فائدہ بی جے کوہونہ کہ عام لوگوں کو تو یہ ایک ایسی بات ہے، جس پرہمیں غورکرنا ہوگا۔ تاہم آئیے پہلے آج اس پرتبادلہ خیال کرلیتے ہیں اورانڈیا الائنس کواپنا ردعمل تیار کرنے دیتے ہیں، اس کے بعد ہم بات کریں گے۔”
وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے انڈسٹریل پالیسی پرکیا کہا؟
مرکزکے زیرانتظام علاقوں میں صنعتی ترغیباتی پالیسی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت ایک نئی ترغیبی پالیسی پرکام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا، “ہم چاہتے ہیں کہ یہ پالیسی صحیح معنوں میں کام کرے۔ دوسری صورت میں، ہم سطحی طورپرمراعات دیتے ہیں، لیکن ان کا زمینی طورپرکوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ سرمایہ کاری نہیں آتی، فیکٹریاں نہیں لگتیں۔” سی ایم عبداللہ نے مزید کہا کہ محکمہ ان لوگوں کے تجربات جاننے کی کوشش کررہا ہے، جنہوں نے اپنی یونٹس قائم کی ہیں اوروہ پالیسی میں کیا تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، “ہم ان لوگوں سے یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ جولوگ یہاں صنعتیں لگانا چاہتے ہیں وہ کس قسم کی پالیسی پسند کریں گے۔ ہم دونوں کوملا دیں گے۔ ان دونوں کو ملا کرمحکمہ صنعت وتجارت کی جانب سے ایک پرکشش پالیسی متعارف کروائی جائے گی۔ مجھے امید ہے کہ اس سے یہاں کی صنعتوں کوفروغ ملے گا۔”
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
