نئی دہلی: دارالحکومت دہلی کے پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن سے متعلق ایک بے حد مایوس کن معاملہ سامنے آیا ہے۔ ٹرین میں سیٹ سے متعلق شروع ہوا تنازعہ اتنا بڑھ گیا کہ ایک نوجوان کی جان چلی گئی۔ حادثہ کے بعد ریلوے اسٹیشن اورآس پاس کے علاقے میں ہنگامہ مچ گیا۔ پولیس نے معاملہ درج کرکے جانچ شروع کردی ہے۔ ڈی سی پی ریلوے کے مطابق، پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن کو تھانہ شاہدرہ ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر-3 پرہوئے پُرتشدد مارپیٹ کی اطلاع ملی تھی۔
اطلاع ملتے ہی جانچ افسران موقع پرپہنچے اورمعاملے کی جانچ شروع کی۔ ابتدائی جانچ میں پتہ چلا کہ اترپردیش کے باغپت کے باشندہ پنکج دھاما یوگا ایکسپریس میں سیٹ کے لئے چڑھنے کی کوشش کررہے تھے۔ اسی دوران کچھ مسافروں کے ساتھ ان کا تنازعہ ہوگیا۔ الزام ہے کہ تنازعہ بڑھنے پرساتھی مسافروں نے پنکج دھاما کے ساتھ مارپیٹ کی۔ انہیں مکّوں اورلاتوں سے بری طرح پیٹا گیا، جس سے وہ شدید طورپر زخمی ہوگئے۔
اسپتال میں ڈاکٹروں نے مردہ قراردیا
مارپیٹ میں زخمی پنکج دھاما کوفوراً علاج کے لئے جی ٹی بی اسپتال لے جایا گیا۔ حالانکہ اسپتال پہنچنے پرڈاکٹروں نے انہیں مردہ قراردے دیا۔ اسپتال میں ان کا ایم ایل سی نمبر 1645/12/26 درج کیا گیا ہے۔ ریلوے پولیس نے اس معاملے میں تعزیرات ہند (بی این ایس) کی دفعہ 105 اور 3 (5) کے تحت معاملہ درج کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ افسران کا کہنا ہے کہ حادثہ میں شامل لوگوں کی پہچان کی جا رہی ہے اورجلد ہی آگے کی قانونی کارروائی کی جائے گی۔
آرپی ایف جوان نے کرایا تھا بیچ بچاو
جانکاری کے مطابق، حادثہ کے دوران ریلوے سیکورٹی اہلکار(آرپی ایف) کے ایک کانسٹبل نے مداخلت کرکے صورتحال کوقابومیں کرنے کی کوشش کی تھی۔ فی الحال پولیس معاملے کے سبھی پہلووں کی جانچ کررہی ہے اور حادثہ سے متعلق مزید جانکاری ملنے کا انتظارکیا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ پورا معاملہ انتہائی افسوسناک ہے اورمعمولی جھگڑے نے کافی سنگین صورتحال اختیارکرلی اورایک شخص کی جان چلی گئی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

