Bharat Express DD Free Dish

Namaz Controversy: اب سرکاری دفاتر میں نماز ادا کرنا بھی جرم؟ نماز کی ویڈیو وائرل ہوتے ہی سیاسی بیانات میں شدت، معاملہ وزیراعلیٰ تک پہنچا

مہاراشٹر کے مالے گاؤں میں میونسپل کارپوریشن کے دفتر کے اندر نماز ادا کرنے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد تنازعہ بڑھ گیا ہے۔ وزیر نتیش رانے اور لیڈر کریت سومیا نے وزیراعلیٰ دیوینڈر فڈنویس سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

مہاراشٹر کے مالے گاؤں میں سرکاری دفتر کے اندر نماز ادا کرنا بھی شاید اب جرم بن گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق  مالے گاؤں میونسپل کارپوریشن کے بجلی شعبے کے دفتر میں اجتماعی طور پر نماز ادا کرنے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس کے بعد سیاسی بیانات میں شدت آ گئی ہے۔

دفتر میں نماز پڑھنے کا معاملہ

معلومات کے مطابق، متعلقہ وارڈ میں بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث کئی افراد شکایت لے کر بجلی شعبے کے دفتر پہنچے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ شام تک بجلی بحال نہ ہونے پر ناراض لوگوں نے دفتر کے احاطے میں اثر کی نماز پڑھنا شروع کر دی۔ اس واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد معاملہ بڑھ گیا۔

حکومت میں وزیر نے اٹھائے سنگین سوالات

اس مسئلے پر مہاراشٹر حکومت میں وزیر اور بی جے پی لیڈر نتیش رانے  نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن یا کسی بھی سرکاری دفتر میں نماز پڑھنے کا کوئی آئینی جواز نہیں ہے۔ ان کے مطابق، سرکاری ادارے عوام کی خدمت اور ترقیاتی کاموں کے لیے ہوتے ہیں، نہ کہ مذہبی سرگرمیوں کے لیے۔ رانے نے کہا کہ اگر کسی سرکاری دفتر میں مذہبی پروگرام منعقد ہوتے ہیں تو متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ رانے نے انتظامی نظم و ضبط پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات انتظامیہ کی سنجیدگی پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے مدارس کے حوالے سے بھی بیان دیا اور کہا کہ ریاست میں ان کی ضرورت اور کام کرنے کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔

سی ایم فڈنویس کو شکایت نامہ

بی جے پی لیڈر کریت سومیا  نے الزام لگایا کہ کچھ میونسپل ملازمین اور دیگر افراد نے کھلے عام بجلی شعبے کے دفتر میں نماز ادا کی۔ انہوں نے اس معاملے کی شکایت وزیراعلیٰ دیوینڈر فڈنویس سے کی۔ سومیا نے متعلقہ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور ملازمین کو معطل کرنے کی درخواست کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کو خط بھی بھیجا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read