Bharat Express DD Free Dish

Noida woman burnt alive: میری ماں کو میرے سامنے مارا پیٹا اور تیزاب ڈال کر زندہ جلا دیا،نوئیڈا میں خوفناک واقعہ آیا پیش

گریٹر نوئیڈا کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آف پولیس (اے ڈی سی پی) سدھیر کمار نے کہا، “21 اگست کو، ہمیں فورٹس اسپتال سے ایک کال موصول ہوئی جس میں بتایا گیا کہ جھلسی ہوئی ایک خاتون کو داخل کیا گیا ہے اور اسے صفدر جنگ اسپتال ریفر کیا گیا ہے۔

یوپی کے گریٹر نوئیڈا میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا، جہاں ایک 26 سالہ خاتون کو اس کے سسرال والوں نے مبینہ طور پر 36 لاکھ روپے کے جہیز کے مطالبے پر ہراساں کیا اور زندہ جلا دیا۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، خاتون، جو آٹھ سال سے شادی شدہ تھی، اپنی جان بچانے کی جنگ ہار گئی۔ اس کی شادی کے وقت اس کے خاندان نے 75 لاکھ روپے خرچ کیے، جن میں مہندرا اسکارپیو گاڑی، نقد رقم اور زیورات شامل تھے، لیکن سسرال والوں کی جہیز کی ہوس ختم نہ ہوئی۔

پولیس کے مطابق، خاتون کو اس کے شوہر اور سسرال والوں نے مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا اور جہیز کے لیے دباؤ ڈالا۔ واقعے سے چند روز قبل، اسے 36 لاکھ روپے کا مطالبہ پورا نہ کرنے پر شدید مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا اور پھر آگ لگا دی گئی۔ خاتون کو اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لا سکی۔ پولیس نے شوہر اور سسرال کے دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔یہ واقعہ بھارت میں جہیز کے خلاف جاری سماجی اور قانونی جدوجہد کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے۔ حکام نے سخت کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے، جبکہ سماجی تنظیموں نے جہیز کے خلاف آگاہی مہمات کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ خاتون کے اہلخانہ نے انصاف کا مطالبہ کیا ہے، اور عوام میں اس واقعے پر شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے۔

اس خوفناک واقعے کی دو ویڈیوز انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہیں۔ ایک ویڈیو میں ایک مرد اور عورت کو متاثرہ لڑکی پر حملہ کرتے ہوئے اور اس کے بالوں سے گھر سے باہر گھسیٹتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ دوسری ویڈیو میں عورت کو آگ لگانے کے بعد سیڑھیوں سے لنگڑاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ کنچن، متاثرہ کی بڑی بہن  کنچن، جس کی شادی ایک ہی خاندان میں ہوئی تھی، نے گریٹر نوئیڈا کے کسنا پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع سرسا گاؤں میں پیش آنے والے واقعے کی ویڈیو بنائی تھی۔متاثرہ خاتون کے چھ سالہ بیٹے نے کہا کہ میری امی کے اوپر کچھ ڈالا پھر ان کو مارا پھر لائیٹر سے آگ لگا دی۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے کنچن نے دعویٰ کیا کہ اس کی چھوٹی بہن  نکی کو شوہر وپن اور سسرال والوں نے 36 لاکھ روپے کے جہیز کا مطالبہ پورا نہ کرنے پر قتل کیا۔کنچن نے دعویٰ کیا کہ جمعرات کی رات، اسے ان لوگوں نے بری طرح مارا پیٹا اور آگ لگا دی۔جہیز کے لیے ہمیں پچھلے کئی دنوں سے مارا پیٹا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا، وہ جہیز میں 36 لاکھ روپے کا مطالبہ کر رہے تھے، انہوں نے میری بہن پر ظلم کیا۔انہوں نے اس کی گردن اور سر میں مارا اور اس پر تیزاب پھینک دیا۔ ہمارے بچے بھی اسی گھر میں تھے۔ میں کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ انہوں نے مجھے بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔

گریٹر نوئیڈا کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آف پولیس (اے ڈی سی پی) سدھیر کمار نے کہا، “21 اگست کو، ہمیں فورٹس اسپتال سے ایک کال موصول ہوئی جس میں بتایا گیا کہ جھلسی ہوئی ایک خاتون کو داخل کیا گیا ہے اور اسے صفدر جنگ اسپتال ریفر کیا گیا ہے۔ پولیس فوری طور پر صفدر جنگ اسپتال کے لیے روانہ ہوئی، لیکن ٹیم کے اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی خاتون زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی۔کنچن کا مزید کہنا تھا کہ ان کے سسرال والے چاہتے تھے کہ ان کی بہن چلی جائے تاکہ وپن کی دوسری شادی ہو سکے۔ انہوں نے مجھے تھپڑ مارا۔ میں سارا دن بے ہوش زخمی رہی۔ایڈیشنل ڈی سی پی نے کہا کہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور پوسٹ مارٹم کرایا گیا ہے۔اہل خانہ نے خاتون کی آخری رسومات ادا کیں۔ متاثرہ کی بہن کی طرف سے درج کرائی گئی شکایت کی بنیاد پر، متاثرہ کے شوہر اور اس کے خاندان کے خلاف کاسنا پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔افسر نے کہاکہ وپن کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور باقی ملزمان کو پکڑنے کے لیے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ انہیں جلد ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔نکی کی شادی 2016 میں وپن سے ہوئی تھی اور اس جوڑے کا ایک بیٹا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read