مہاراشٹرمیں شیوسینا (ادھو ٹھاکرے) کے لئے برے دن ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ گزشتہ روزپارٹی کے 6 اراکین پارلیمنٹ نے پارٹی تبدیل کردی اورایکناتھ شندے کی قیادت والے شیوسینا میں شامل ہوگئے۔ مہاراشٹرکی سیاست میں آپریشن ٹائیگرکی قیاس آرائی بہت لمبے وقت سے چل رہی ہے۔ اب خبر ہے کہ ادھوٹھاکرے کے اراکین اسمبلی بھی اب باغی تیورمیں آنے والے ہیں اورپارٹی چھوڑکرایکناتھ شندے کے ساتھ مل سکتے ہیں۔
ریاست میں مہایتی حکومت کے وزیرادے سامنت نے ناگپورمیں ادھوٹھاکرے کے اراکین اسمبلی کے شندے کے ساتھ جڑنے سے متعلق سوال پر کہا، ”میں بس یہی کہہ رہا ہوں کہ مہا وکاس اگھاڑی کے ابھی اورکارکنان، لیڈراورآمدار ہمارے ساتھ آنے والے ہیں، لیکن ہمارا کوئی آپریشن چالو نہیں ہے۔“
ہم ان کا استقبال کریں گے: ادے سامنت
انہوں نے کہا، ہم ان کا استقبال کریں گے کیونکہ ان کوپتہ چل گیا ہے کہ نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کی جو قیادت ہے، وہ آگے جاکر ان کوطاقت دے سکتی ہے۔ اب ان کو بھی سمجھ میں آیا ہوگا کہ وہیں جانا پڑے گا اوراگرآنے والے ہیں توان کا اسقبال کریں گے۔“ ابھی کہا جا رہا ہے کہ ٹھاکرے گروپ کے 20 اراکین اسمبلی میں سے 14 اراکین اسمبلی کے پارٹی تبدیل کرنے کی خبر ہے۔ وجے ویڈیٹی وارکے نام کی بھی قیاس آرائی چل رہی ہے کہ وہ شندے گروپ میں آسکتے ہیں، اس پرادے سامنت نے کہا، وہ آئیں گے یا نہیں آئیں گے، اس کے بارے میں مجھے معلوم نہیں ہے، لیکن وجے ویڈیٹی وارودربھ کے مضبوط لیڈراورطاقتورلیڈرہیں۔ اگروہ ایکناتھ شندے کے ساتھ آتے ہیں اوران کی قیادت قبول کرتے ہیں، اگران کے ساتھ آتے ہیں توان کا استقبال کریں گے۔
سنجے پاٹل معاملہ ختم ہونا چاہئے: ادے سامنت
دوسری طرف، شیوسینا رکن پارلیمنٹ سنجے پاٹل نے صحافیوں کے ساتھ ہوئی جھڑپ کے بعد عوامی طورپرمعافی مانگنے سے متعلق ادے سامنت نے کہا کہ وہ بہت ہی دلدارشخصیت ہیں۔ ان کی بچپن سے ہی الگ شخصیت رہی ہے۔ وہ بہت دلداراورایک بہترین دوست ہیں۔ اب انہوں نے اس مسئلے پراپنا بیان دے دیا ہے، تو میری آپ سے گزارش ہے کہ اس معاملے کو یہیں پرختم کر دینا چاہئے۔ شیوسینا (ادھو ٹھاکرے) کے راجیہ سبھا ایم پی سنجے راوت نے ٹوئٹ کرکے بتایا کہ پارٹی نے کروڑوں روپئے رام مندر کو چندہ دیئے تھے، لیکن اب رام مندر کے بارے میں ایس آئی ٹی لگی ہوئی ہے، اس میں جو کچھ آگے جاکرسامنے آئے گا، اس میں کون قصورواررہے گا، ان کے اوپرکارروائی ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




