Bharat Express DD Free Dish

No One Can Challenge PM Modi: ’’پی ایم مودی کو چیلنج کرنا آسان نہیں‘‘، سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی نے کہا-اپنی پارٹی میں سب سے طاقتور ہیں پی ایم مودی

اتر پردیش میں سامنے آنے والے تبدیلی مذہب کے معاملات پر انھوں نے کہا کہ تبدیلی مذہب ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس پر سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔

جگد گرو شنکراچاریہ مہاراج سوامیشری اویمکتیشورانند سرسوتی ’1008‘ نے ہفتہ کو تمام مذہبی، سیاسی، عالمی مسائل اور ملک میں حالیہ پیش رفت پر بات کی۔ اس دوران انھوں نے کہا کہ پی ایم مودی کو چیلنج کرنا آسان نہیں ہے، لوگ کوشش کر رہے ہیں، لیکن اب تک وہ پی ایم مودی کو ہلا بھی نہیں سکے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے سامنے قومی سیاست میں راہل گاندھی کی پوزیشن کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’’راہل گاندھی پی ایم مودی کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن انھیں چیلنج کرنا آسان نہیں ہے۔ لوگ کوشش کر رہے ہیں، لیکن اب تک وہ پی ایم مودی کو نہیں ہلا سکے ہیں۔ وہ جہاں بھی کھڑے ہیں، مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ اب تک کوئی انھیں اس مقام سے نہیں ہلا سکا۔‘‘

پی ایم مودی کو چیلنج کرنا آسان نہیں

عالمی سیاست میں پی ایم مودی کے مقام کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ تجزیہ کرنے کی بات ہے کہ وہ عالمی سیاست میں کتنی بڑی طاقت ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ وہ اپنی پارٹی میں سب سے زیادہ طاقتور ہیں۔ وہ اپنی مرضی کے اصول بناتے ہیں اور سب کو ان پر عمل کرنا پڑتا ہے۔ یوں تو ہم بیرون ملک نہیں گئے لیکن ملک میں ہم نے دیکھا ہے کہ ان کی پارٹی میں ان سے زیادہ طاقتور کوئی نہیں ہے۔

اروند کیجریوال اور اکھلیش سے متعلق سوالات کے بھی دیے جواب

عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے نوبل انعام کے مطالبے پر انھوں نے کہا کہ اس شخص نے جو بھی کہا، کم از کم ایمانداری سے کہا۔ آج کل اکثر لوگ چھپ چھپ کر بات کرتے ہیں لیکن یہ ہمت کی بات ہے کہ اس نے اظہار کیا۔ جو ایوارڈز دیے جاتے ہیں، وہ ایسے ہی نہیں دیے جاتے، ان کے لیے اپلائی کرنا پڑتا ہے، سفارشات لینا پڑتی ہیں، حکومتی سطح پر کوششیں کرنی پڑتی ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی کھل کر کہہ رہا ہے کہ اس نے یہ کام کیا ہے تو یہ اس کی ایمانداری ہے۔

وہیں کتھاواچک دھیریندر شاستری پر سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو کے حالیہ بیان پر انھوں نے کہا کہ اگر اکھلیش یادو نے کہا ہے کہ وہ میز کے نیچے سے پیسے لیتے ہیں، تو ممکن ہے کہ ایسا ہو۔ لیکن ہم ایسا کچھ نہیں جانتے۔ دوسری بات یہ کہ کون سا لیڈر یا پارٹی پیسے نہیں لیتی؟ کیا اکھلیش یادو یا ان کی پارٹی پیسے نہیں لیتی؟ تمام سیاسی جماعتیں عوام سے چندہ لیتی ہیں لیکن اس کا آڈٹ نہیں ہوتا اور نہ ہی عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ کس نے کتنا چندہ لیا؟ کم از کم بابا باگیشور نے جو لیا اسے چھپایا نہیں، یہ بھی ایک ایمانداری ہے۔

تبدیلی مذہب پر اپنایا سخت موقف

اتر پردیش میں سامنے آنے والے تبدیلی مذہب کے معاملات پر انھوں نے کہا کہ تبدیلی مذہب ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس پر سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ کسی کو دھوکہ دے کر اس کا مذہب تبدیل کروانا جرم ہے۔ کیا مذہب کی تبدیلی کے بعد زندگی میں کوئی بڑی تبدیلی آئی؟ کیا غربت ختم ہوئی؟ کیا بیماریاں ختم ہوئیں؟ کیا پریشانیاں ختم ہوئیں؟ اگر نہیں تو اس کا مقصد کیا ہے؟ انھوں نے تجویز دی کہ مذہب تبدیل کرنے والوں کا رجسٹریشن کیا جائے اور ضلعی انتظامیہ کو پیشگی اطلاع دی جائے۔ دونوں اطراف کے ماہرین مذاکرات کے لیے موجود ہوں تاکہ سچ سامنے آئے اور کوئی دھوکہ نہ ہو۔

اس کے علاوہ کینیڈا میں کامیڈین اور اداکار کپل شرما کے کیفے پر فائرنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ سب سیاست کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ فنکار خود کو صرف اپنے فن تک محدود رکھیں۔ جب وہ سیاست دانوں سے تعلقات استوار کرتے ہیں اور اس کی تشہیر ہوتی ہے تو دوسری پارٹی کے لوگ ان پر حملہ کرنے کا موقع ڈھونڈتے ہیں۔ اس سے بچنا چاہیے۔ ایک حقیقی فنکار کو سیاست سے دور رہ کر صرف اپنے فن پر توجہ دینی چاہیے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read