Bharat Express DD Free Dish

No-Confidence Motion Against Speaker Om Birla: لوک سبھا میں اوم برلا کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش، بحث کے لیے 10 گھنٹے مقرر

لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی عدم اعتماد کی تحریک پر منگل کو پارلیمنٹ میں باضابطہ بحث شروع ہو گئی۔ اس معاملے پر ایوان میں کافی ہنگامہ آرائی کے بعد اب بحث کے لیے کل 10 گھنٹوں کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔

نئی دہلی: لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی عدم اعتماد کی تحریک پر منگل کو پارلیمنٹ میں باضابطہ بحث شروع ہو گئی۔ اس معاملے پر ایوان میں کافی ہنگامہ آرائی کے بعد اب بحث کے لیے کل 10 گھنٹوں کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ اس دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان اپنے اپنے دلائل پیش کریں گے اور بحث کے اختتام پر اس پر ووٹنگ بھی کرائی جا سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ تحریک کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے پیش کی ہے۔ پیر کے روز اس معاملے پر بحث ہونی تھی، تاہم اپوزیشن کی جانب سے مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر فوری بحث کرانے کے مطالبے کو لے کر ایوان میں شدید ہنگامہ ہوا جس کے باعث کارروائی متاثر ہو گئی اور بحث شروع نہیں ہو سکی تھی۔ بعد ازاں منگل کو اس معاملے کو دوبارہ ایجنڈے میں شامل کیا گیا جس کے بعد باضابطہ بحث کا آغاز ہوا۔

کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے عدم اعتماد کی تحریک پر بحث کا آغاز کیا۔ اس دوران چیئر پر موجود بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال نے ایوان کو آگاہ کیا کہ اس اہم معاملے پر تفصیلی بحث کے لیے مجموعی طور پر 10 گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے تمام ارکان پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ موضوع سے ہٹ کر بات کرنے کے بجائے صرف تحریک سے متعلق نکات پر اپنی رائے پیش کریں اور ایوان کی کارروائی کو پرامن طریقے سے آگے بڑھانے میں تعاون کریں۔ بحث کے آغاز کے ساتھ ہی ایوان میں صدارت کے مسئلے پر بھی تنازع کھڑا ہو گیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے اعتراض اٹھایا کہ چونکہ یہ تحریک خود اسپیکر کے خلاف ہے، اس لیے اس پر بحث کی صدارت کون کرے گا، یہ سوال اہم ہے۔ اپوزیشن کا مؤقف تھا کہ اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کی عدم موجودگی میں کسی پیٹھاسین افسر کے ذریعے اس بحث کی صدارت مناسب نہیں ہوگی۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے مطالبہ کیا کہ اس تحریک پر بحث کرانے کے لیے پہلے ایک غیر جانبدار اسپیکر یا چیئرمین کا انتخاب کیا جائے۔

واضح رہے کہ کانگریس رکن محمد جاوید نے اس تحریک کے ذریعے اوم برلا کو اسپیکر کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تحریک میں الزام لگایا گیا ہے کہ اسپیکر نے ایوان کی کارروائی کے دوران غیر جانبداری کا مظاہرہ نہیں کیا اور اپوزیشن ارکان کو اپنی بات رکھنے کے لیے مناسب موقع فراہم نہیں کیا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ بعض مواقع پر ایوان کی کارروائی میں بے ضابطگیاں بھی دیکھنے کو ملیں اور اسپیکر کے فیصلے اکثر حکومت کے حق میں جاتے رہے۔

پارلیمانی ماہرین کے مطابق اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ایوان میں ایک غیر معمولی قدم سمجھا جاتا ہے اور یہ براہ راست لوک سبھا کی کارروائی اور اس کے نظم و نسق پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اس معاملے کو حکومت کے خلاف ایک مضبوط سیاسی پیغام کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے۔ ادھر حکمراں اتحاد این ڈی اے کے پاس ایوان میں واضح اکثریت موجود ہے، اس لیے سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس تحریک کے منظور ہونے کے امکانات کم ہیں۔ تاہم اس بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت الزامات اور جوابی حملے دیکھنے کو مل سکتے ہیں، جس سے پارلیمنٹ کا ماحول مزید گرم ہونے کا امکان ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read