نئی دہلی: مغربی بنگال کی سیاست میں ’اصلی ترنمول‘ کی لڑائی مسلسل دلچسپ ہوتی جا رہی ہے۔ مئی میں آنے والے انتخابی نتائج کے بعد ترنمول کانگریس کے اندر شروع ہونے والا تنازع اب پارٹی کو دو الگ الگ دھڑوں میں تقسیم کر چکا ہے۔ دونوں دھڑے خود کو پارٹی کا حقیقی وارث قرار دے رہے ہیں اور یہ کشمکش اب اسمبلی سے سڑکوں تک پہنچ گئی ہے۔
باغی دھڑے کو اسمبلی میں عددی برتری
ریاستی اسمبلی میں باغی دھڑے کو ترنمول کے کئی ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہونے کے بعد اس کے لیڈر ریتبرت بنرجی کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر منظوری مل چکی ہے۔ اس کے بعد دونوں دھڑوں کے درمیان سیاسی طاقت کا مظاہرہ بھی تیز ہو گیا ہے۔ اگلا بڑا مقابلہ 21 جولائی کو کولکتہ کی سڑکوں پر دیکھنے کو ملا۔ یہ دن ترنمول کانگریس کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اسی دن ہر سال یوم شہادت منایا جاتا ہے۔ یہ پروگرام 1993 میں یوتھ کانگریس کارکنوں پر ہونے والی پولیس فائرنگ کی یاد میں منعقد کیا جاتا ہے، جس کی قیادت اس وقت ممتا بنرجی کر رہی تھیں۔
28 اگست کو طلبہ تنظیم کے قیام کا دن بنے گا طاقت کا مظاہرہ
اب یہ سیاسی لڑائی 28 اگست کو ترنمول کانگریس طلبہ کونسل کے یوم تاسیس پر ایک نیا رخ اختیار کرنے جا رہی ہے۔ 21 جولائی کی طرح اس بار بھی دونوں دھڑے الگ الگ بڑے پروگرام منعقد کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں اور لیڈران کی نظریں اس بات پر ہوں گی کہ کون سا دھڑا زیادہ بھیڑ جمع کرنے میں کامیاب ہوتا ہے اور دونوں جانب کے لیڈر اپنی تقریروں میں کیا پیغام دیتے ہیں۔
ممتا بنرجی کا کالی گھاٹ دھڑا
ایک طرف ممتا بنرجی کا ’کالی گھاٹ دھڑا‘ ہے، جس کی طاقت ان کی ذاتی مقبولیت اور پارٹی کی بنیادی وراثت کو مانا جاتا ہے۔ کالی گھاٹ دھڑے کا ماننا ہے کہ صرف اسمبلی میں عددی برتری حاصل کرلینے سے ممتا بنرجی کی جذباتی اور تاریخی شناخت کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دھڑا ممتا بنرجی کی شخصیت کے گرد قائم ہے۔ بائیں محاذ کی حکومت کے خلاف ان کی جارحانہ تحریکوں سے لے کر 2011 میں اقتدار حاصل کرنے تک کے سفر کو اس دھڑے کی سب سے بڑی طاقت سمجھا جاتا ہے۔
ممتا بنرجی کا طرز حکمرانی طویل عرصے سے انتہائی ذاتی اور مرکزیت پر مبنی رہا ہے۔ پارٹی میں اہم فیصلے اکثر ان کی کالی گھاٹ واقع رہائش گاہ سے لیے جاتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ایک وقت میں یہ کہاوت بھی مشہور ہوئی کہ ترنمول میں صرف ’ایک عہدہ‘ ہے اور باقی سب ’کھمبے‘ ہیں، یعنی دوسرے لیڈر ممتا کی مقبولیت کی روشنی میں ہی نمایاں ہوتے ہیں۔
ریتبرت بنرجی دھڑے کے پاس عددی طاقت
دوسری جانب ریتبرت بنرجی کا دھڑا خود کو ترنمول کی تنظیمی طاقت کا عملی وارث قرار دیتا ہے۔ اس دھڑے کو تقریباً 60 ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ اپوزیشن لیڈر کے طور پر ریتبرت بنرجی کو ملی منظوری نے بھی اس دھڑے کو ادارہ جاتی مضبوطی فراہم کی ہے۔ اس دھڑے کی طاقت صرف ریتبرت بنرجی تک محدود نہیں ہے، بلکہ فرہاد حکیم، مدن مترا، انوبرت منڈل اور جاوید خان جیسے لیڈران کی حمایت بھی اسے حاصل ہے۔ یہ تمام لیڈران کبھی ممتا بنرجی کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔
21 جولائی کو بھی دونوں دھڑوں نے کی تھی طاقت آزمائی
21 جولائی کو ریتبرت دھڑے نے کولکتہ کے میو روڈ پر ایک متوازی ریلی منعقد کی تھی، جو ممتا بنرجی کی برلا تارامنڈل کے قریب ہونے والی ریلی سے تقریباً 3 کلومیٹر دور تھی۔ خبری رپورٹس کے مطابق دونوں ریلیوں میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے تھے۔ ایک ہی دن ترنمول کے دو الگ الگ طاقت کے مظاہروں نے پارٹی کے اندر بڑھتی تقسیم کو واضح طور پر سامنے لا دیا۔
طلبہ تنظیم پر قبضہ کیوں اہم؟
اب 28 اگست کا پروگرام طلبہ سیاست کے لحاظ سے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ ترنمول کانگریس طلبہ کونسل طویل عرصے سے کالجوں اور یونیورسٹیوں کی طلبہ سیاست میں پارٹی کی مضبوط بنیاد رہی ہے۔ دونوں دھڑوں کا ماننا ہے کہ جو بھی ترنمول کانگریس طلبہ کونسل پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرے گا، وہ نہ صرف نوجوان کارکنوں کی حمایت حاصل کرے گا بلکہ ’اصلی ترنمول‘ کی نظریاتی شناخت طے کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
کیا آئینی اداروں تک پہنچے گا معاملہ؟
موجودہ صورتحال کسی حد تک مہاراشٹر میں شیوسینا کی تقسیم سے مماثل قرار دی جا رہی ہے، جہاں بالآخر الیکشن کمیشن اور عدالتوں کو یہ طے کرنا پڑا تھا کہ پارٹی کا حقیقی وارث کون ہے۔ مغربی بنگال میں بھی مستقبل میں ترنمول کی قانونی حیثیت اور حقیقی وارث ہونے کا سوال ریلیوں اور عددی طاقت کے بجائے آئینی اداروں کے ذریعے طے ہو سکتا ہے۔ تاہم فی الحال دونوں دھڑے طلبہ تنظیم پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں اور اسی کے ساتھ ’اصلی ترنمول‘ کی لڑائی کا ایک اور اہم باب 28 اگست کو کولکتہ میں لکھا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
