Bharat Express DD Free Dish

Ritabrata Banerjee

مغربی بنگال کی سیاست میں ’اصلی ترنمول‘ کی لڑائی مسلسل دلچسپ ہوتی جا رہی ہے۔ مئی میں آنے والے انتخابی نتائج کے بعد ترنمول کانگریس کے اندر شروع ہونے والا تنازع اب پارٹی کو دو الگ الگ دھڑوں میں تقسیم کر چکا ہے۔ دونوں دھڑے خود کو پارٹی کا حقیقی وارث قرار دے رہے ہیں اور یہ کشمکش اب اسمبلی سے سڑکوں تک پہنچ گئی ہے۔

بی جے پی کے پاس 207، ٹی ایم سی کے پاس 80، کانگریس کے پاس 2، ہمایوں کبیرکی پارٹی کو2 اورسی پی آئی-اے آئی ایس ایف کے پاس ایک ایک سیٹ ہے۔ ٹی ایم سی دوگروپوں میں تقسیم ہے، ایسے میں بی جے پی کے ان سیٹوں پرجیت حاصل کرنے کا امکان ہے۔

الیکشن کمیشن نے ممتا بنرجی اور رتبرتا بنرجی دونوں سے وضاحت طلب کی ہے۔ کمیشن نے دونوں فریقوں کو پیر6 جولائی شام 5:30 بجے تک اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ الیکشن کمیشن کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترنمول کانگریس کے اندر اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں۔ 

 ممتا بنرجی کی مشکلات بڑھتی ہوئی نظرآرہی ہیں۔ جمعرات کو ترنمول کانگریس کے باغی اراکین پارلیمنٹ کے گروپ نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کی اوردوتہائی اراکین اسمبلی کی حمایت کا دعویٰ کیا ہے۔

 ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے پارٹی کے 65 باغی اراکین اسمبلی سے استعفیٰ دینے اور نیا مینڈیٹ مانگنے کی اپیل کی ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ باغی اراکین کے ذریعہ عرضی داخل کرکے انہیں اصلی ٹی ایم سی کے طورپر منظوری دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس میں بڑی بغاوت ہوئی ہے۔ رتبرتا بنرجی کی قیادت میں باغی اراکین اسمبلی نے ممتا بنرجی کو چیئرپرسن کے عہدے سے ہٹاکر انوپ رائے کو نیا صدر منتخب کرلیا ہے۔ ابھیشیک بنرجی کو پارٹی سے معطل کردیا گیا ہے۔ 60 اراکین اسمبلی اور 70 کونسلروں کی حمایت سے بنی اس نئی کمیٹی نے ریاست کی سیاست میں بھونچال لا دیا ہے، جس سے پارٹی کے انتخابی نشان سے متعلق بھی سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔

مغربی بنگال اسمبلی کے اسپیکر رویندر ناتھ بوس نے رتبرتا بنرجی کو اپوزیشن لیڈر کی منظوری دے دی ہے۔ وہیں آخرالزماں کو چیف وہپ بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے باغی اراکین اسمبلی نے اسپیکرسے ملاقات کی اور58 اراکین کے دستخط شدہ حمایتی خطوط پیش کئے۔