نئی دہلی: مہاراشٹرکی سیاست میں مسلسل رسہ کشی دیکھنے کومل رہی ہے۔ ادھوٹھاکرے کی شیوسینا میں بغاوت کے بعد اب نیشنلسٹ کانگریس پارٹی شرد پوار(این سی پی-ایس پی) میں ٹوٹ کی خبریں سرخیوں میں ہیں۔ ان سبھی قیاس آرائیوں کے درمیان نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے صدرشرد پوارنے خود معاملے پرردعمل ظاہرکیا ہے۔ اپنی پارٹی میں انتشارکی خبروں کے بارے میں پوچھے جانے پراین سی پی (ایس پی) سربراہ شرد پوارنے کہا، “یہ قیاس آرائیاں بے مطلب ہیں۔ ہمارا ایک بھی ایم پی پارٹی نہیں چھوڑے گا۔”
گزشتہ دنوں ادھوٹھاکرے کی شیوسینا کے 6 اراکین پارلیمنٹ نے ایکناتھ شندے کا دامن تھام لیا تھا، جس کے بعد قیاس آرائیوں کا دورشروع ہوگیا تھا کہ کیا اب شرد پوارکی پارٹی کے اراکین اسمبلی اوراراکین پارلیمنٹ بھی پارٹی بدلنے کے لئے تیارہیں۔ اس پراین سی پی (ایس پی) کی طرف سے پہلے بھی واضح طورپرکہا جا چکا ہے کہ انہیں ٹارگیٹ کیا جا رہا ہے۔ پارٹی کے ترجمان نسیم صدیقی نے کہا تھا کہ ہمارے 8 اراکین پارلیمنٹ اور10 اراکین اسمبلی ہیں، ان میں سے مجھے نہیں لگتا کہ کوئی شرد پواراوران کی پارٹی کو چھوڑے گا۔
مہاوکاس اگھاڑی میں ٹوٹ کے آثار!
مہاراشٹرمیں اسمبلی کا مانسون سیشن شروع ہوچکا ہے۔ اس درمیان مہا وکاس اگھاڑی نے سبھی اتحادی پارٹیوں کے ساتھ میٹنگ کی ہے۔ اس میٹنگ میں این سی پی-ایس پی کے سربراہ شرد پوارکی غیرموجودگی نے سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ وہیں، اس میٹنگ میں جینت پاٹل بھی ذاتی وجوہات سے میٹنگ میں نہیں پہنچے۔ ایسے میں مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) اتحاد میں بھی انتشارکے آثار نے طول پکڑلیا ہے۔
ادھو ٹھاکرے نے اتحاد پردیا زور
دراصل، میٹنگ میں 37 اراکین اسمبلی شامل ہوئے تھے۔ 60 اراکین میں سے 23 کے شامل نہ ہونے پراب سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔ این سی پی لیڈرشردپواراورپارٹی کے اراکین اسمبلی کے میٹنگ میں نہ پہنچنے پرادھو ٹھاکرے نے ناراضگی ظاہرکی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے میٹنگ میں کہا کہ ہم مہاوکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کے طورپرایک ساتھ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن کیا واقعی میں ہم متحد ہیں۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ آگے ہمیں متحد ہوکرہی کام کرنا پڑے گا۔ ادھو ٹھاکرے نے اراکین اسمبلی کے ذریعہ ایوان میں ایک ساتھ تمام موضوعات کو اٹھانے پرزوردیا۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




