Bharat Express DD Free Dish

NCP SP

 شرد پوار کی بیٹی سپریا سولے نے این ڈی اے میں شامل ہونے کی قیاس آرائیوں کو پوری طرح سے خارج کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی انڈیا الائنس کے ساتھ مل کرہی بڑے سیاسی فیصلے لے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حد بندی سے متعلق ابھی تک مرکزی حکومت کی طرف سے کوئی باضابطہ بل یا تجویز سامنے نہیں آئی ہے۔

 شیوسینا (یوبی ٹی) کے راجیہ سبھا ایم پی سنجے راوت نے کہا کہ شرد پوارسے ہمارے اچھے تعلقات ہیں، لیکن ہمارے لئے'غداری' کا مطلب 'غداری' ہے۔ شرد پوار یقینی طور پر بڑے اور محترم لیڈر ہیں، لیکن جن لوگوں نے ان کی حکومت گرائی، ان کے دفتر میں جاکر میٹنگ کرنا کسی بڑے لیڈر کے بھروسے کو کم کرتا ہے۔

مہاراشٹر کانگریس کے سینئرلیڈر نانا پٹولے نے کہا کہ انضمام سے متعلق کوئی تبادلہ خیال نہیں ہے۔ یہ افواہ ہے۔ وہیں، سابق وزیراعلیٰ پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ انہوں نے یہ خبریں اخبارمیں دیکھی ہیں، لیکن انفرادی طورپرکچھ نہیں معلوم ہے۔ حالانکہ انہوں نے یہ ضرورکہا تھا کہ جن بھی پارٹیوں نے اپنے نام سے کانگریس نہیں ہٹایا، چاہے وہ ترنمول ہویا این سی پی ہو، انہیں واپس گھر لوٹنا چاہئے۔

مہاراشٹرمیں گزشتہ کئی دنوں سے سیاسی گھمسان جاری ہے۔ ادھوگروپ میں ٹوٹ کے درمیان شرد پوارکی پارٹی میں ٹوٹ کی خبروں کو ہوا دے دی ہے۔ اس پرشرد پوارکا ردعمل سامنے آیا ہے۔

این سی پی (شرد پوار) کے ترجمان نسیم صدیقی نے شرد پوار کی پارٹی میں بغاوت کی قیاس آرائیوں سے متعلق کہا کہ سیاست میں اب کوئی چیز ناممکن نہیں ہے۔ سارا کھیل اقتدار کے لئے ہی ہو رہا ہے۔ 

جینت پاٹل کے استعفیٰ کے بعد ششی کانت شندے کو شرد پوار گروپ کا نیا ریاستی صدر مقرر کیا گیا ہے۔ شندے 15 جولائی کو چارج سنبھالیں گے۔

پوار نے زور دیا کہ این سی پی (ایس پی) پہلگام دہشت گردانہ حملے پر سیاست نہیں کرے گی، لیکن کانگریس اور بائیں بازو کے ساتھ ملک کی بہتری کے لیے قومی سطح پر کام کرتی رہے گی۔

سپریا سولے نے کہا، ’’مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی انڈیا اتحاد کا ایک اٹوٹ حصہ ہیں۔ متحرک جمہوریت میں اپوزیشن کا بڑا کردار اور ذمہ داری ہوتی ہے، اس لیے اگر وہ اپوزیشن اتحاد کے اندر زیادہ ذمہ داری لینا چاہتی ہیں تو انہیں خوشی ہوگی۔‘‘

چند ایا م قبل سپریا سولے نے کہا تھا کہ اجیت پوار کے ساتھ کوئی سیاسی اتحاد نہیں ہوگا اور نہ ہی سیاسی مفاہمت ممکن ہے۔ سپریہ سولے نے کہا کہ اجیت پوار کی پارٹی بی جے پی کی حلیف ہے اور ایسی صورت حال میں نظریاتی اختلافات ہوں گے۔

این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار نے جوابی حملہ کیا ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ کو یاد دلایا ہے کہ کس طرح سپریم کورٹ نے انہیں اپنی آبائی ریاست گجرات سے دور رہنے پر مجبور کیا تھا۔