نگینہ سے رکن پارلیمنٹ چندر شیکھر آزاد نے تحریک چلانے کی دھمکی دی ہے۔ (فائل فوٹو)
UP Politics: اترپردیش کے نگینہ سے رکن پارلیمنٹ اورآزاد سماج پارٹی (کانشی رام) کے قومی صدرچندرشیکھرآزاد نے دارالحکومت دہلی میں بڑے احتجاج کی وارننگ دی ہے۔ پریاگ راج کے کرچھنا تھانہ کے ماتحت ہوئے تشدد پرردعمل ظاہرکرتے ہوئے چندرشیکھرآزاد نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ کوشامبی کے حادثہ سے دھیان بھٹکانے کے لئے یہ سازش کی گئی ہے۔
پریاگ راج میں ہوئے تشدد معاملے میں رکن پارلیمنٹ چندرشیکھرآزاد نے کہا کہ ہمارے کارکنان، آئین میں یقین رکھتے ہیں اوروہ تشدد میں شامل نہیں ہوتے۔ آج لوگوں کے لئے یہ عام بات ہوگئی ہے کہ وہ نیلا پٹکا پہن کرگھومتے ہیں۔ میں اس معاملے میں سی بی آئی کی جانچ کا مطالبہ کرتا ہوں۔ اگرحکومت، پولیس یا انتظامیہ کسی کوجان بوجھ کرنشانہ بنائے گی توہم خاموشی کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے اورلکھنؤ میں بڑا آندولن کریں گے۔
پولیس پرلگایا سازش کا الزام
چندرشیکھرآزاد نے کہا کہ میں کل پریاگ راج گیا تھا۔ میں وہاں ہماری پال طبقے کی بیٹی کے لئے انصاف مانگنے گیا تھا، لیکن پولیس نے مجھے الہ آباد سرکٹ ہاؤس میں رکھا۔ میں نہیں جانتا کہ پولیس نے وہاں کیوں نہیں جانے دیا۔ میں نے کہا کہ اگرآپ مجھے وہاں نہیں جانے دے رہے ہیں توکم ازکم ان کے اہل خانہ سے بات کرنے دیں۔ میرا ماننا ہے کہ پولیس اورانتظامیہ نے ایسے جرم کئے اوران کوچھپانے کے لئے مجھے وہاں جانے کے لئے روکا۔
کانگریس نے لگایا حکومت سے ملی بھگت کا الزام
وہیں پریاگ راج میں بھیم آرمی کے ہنگامہ پرکانگریس لیڈراجے رائے نے تبصرہ کیا۔ انہوں نے ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پریاگ راج میں بھیم آرمی کے ہنگامہ پرکہا کہ یہ حکومت کی ملی بھگت ہے۔ چندرشیکھرآزاد کوجانے دینا چاہئے۔ ہم بھی اپنے رکن پارلیمنٹ کے ساتھ وہاں پرگئے تھے، پورا تعاون کیا گیا۔ حکومت نے جان بوجھ کرمشتعل کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
