ملک بھر میں ہولی اور جمعہ کے ایک ہی دن پڑنے کے سبب طرح طرح کے سیاسی اور مذہبی بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ لیکن اس دوران ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے ممبئی پولیس نے ایک بہترین قدم اٹھایا ہے۔ آنے والے تہواروں خاص طور پر ہولی اور رنگ پنچمی کی تقریبات کے دوران عوامی امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے ممبئی پولیس نے اپنے شہریوں کے لیے کچھ پابندیوں پر مبنی ایک ہدایت نامہ جاری کیا ہے۔ 12 مارچ سے 18 مارچ تک نافذ العمل یہ احکام تہوار منانے والوں کو عوامی راستوں سے پیدل گزرنے والوں پر رنگ اور پانی پھینکنے کے ساتھ ساتھ عوامی مقامات پر فحش گانا گانے یا بجانے سے روکتے ہیں اور ان کی خلاف ورزی کرنے والوں پر قانونی کارروائی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس (آپریشنز) اکبر پٹھان کی طرف سے جاری کردہ ہدایت نامے کے مطابق ممبئی میں اگلے چند دنوں تک ان باتوں پر پابندی ہے:
فحش کلمات: حکم کے مطابق فحش الفاظ یا نعروں پر مبنی عوامی تقریر کے ساتھ ساتھ فحش گانے گانا یا بجانا سختی سے منع ہے۔
اُکسانے والے اشارے، علامتیں یا نقلیں: ایسے اشاروں یا نقل یا علامت کا استعمال ممنوع ہے جو وقار اور اخلاقیات کو مجروح کرنے والی ہو۔ ساتھ ہی اس طرح کی بھڑکاؤ تصاویر، پلے کارڈز یار کسی اور چیز کا استعمال بھی ممنوع ہے۔
راستوں سے پیدل گزرنے والوں پر رنگ یا پانی پھینکنا: حکم کے مطابق عوامی راستوں سے گزرنے والے پیدل افراد پر پانی یا رنگ پھینکنا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
پانی کے غبارے پھینکنا: حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ہولی کے جشن کے دوران سادہ یا رنگین کسی بھی طرح کے پانی سے بھرے ہوئے غبار تیار کرنے اور انھیں کسی پر پھینکنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
ممبئی پولیس کی جانب سے جاری کردہ اس حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کوئی بھی فرد ان پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یا اس کی خلاف ورزی کرنے والے کی مدد کرتا ہوا پایا گیا تو اسے مہاراشٹر پولیس ایکٹ 1951 کی دفعہ 135 کے تحت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ممبئی پولیس کا ماننا ہے کہ یہ احکامات عوامی امن و سلامتی اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



